ہما چل پردیش کا سفر
الرسالہ، مئی ۱۹۹۹، صفحہ ۹
اپنی تقریروں اور تحریروں میں روزانہ ہندوستانی مسلمانوں کی بربادی کا چرچا کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ باہر کے ملکوں میں بھی جا کر وہ اسی قسم کی خبریں وہاں کے لوگوں کو سناتے ہیں۔ مثلاً مکہ کے اخبار ’’العالم الاسلامی‘‘ کے تازہ شمارہ ۱۲ نومبر ۱۹۹۵ میں ایک معروف عالم کا انٹرویو چھپا ہے۔ اس میں انہوں نے بتایا ہے کہ انڈیا کے مسلمان مخالفانہ مؤامرات کا اور ہندوؤں کی عداوت کا شکار ہو رہے ہیں۔ اس کا عنوان ہے ـــــــ انڈیا کے مسلمان چکی کے دو پاٹوں کے درمیان (مسلمو الہند بین فکی الّرحّیٰ)
انٹرویو لینے والا اگر سمجھدار ہو تا تو وہ ان سے پوچھتا کہ جب تمام ہندوستانی مسلمان ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں تو تم کس طرح اتنے شاندار طور پر اس سے بچنے میں کامیاب ہو گئے۔ ہم کو تو تم وہی تدبیر بتاؤ تا کہ ہم بشّرو ولا تنفروا کے اسلامی اصول پر ہندوستان کے مسلمانوں کو اس کی خوشخبری دے سکیں۔
اپنے ملک کے پڑھے لکھے مسلمانوں کی سوچ کو دیکھ کر مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان میں سے ہر ایک ماضی کے بوجھ کے نیچے دبا ہوا ہے۔ ۱۹۴۷ سے پہلے مسلمانوں کے لیڈروں نے سمجھایا کہ ہندوؤں کے ساتھ مسلمانوں کا کوئی مستقبل نہیں۔ اس لئے ہمیں علیحدہ ملک چاہئے۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے تمام دماغ آج تک ماضی کے اسی بے بنیاد پروپیگنڈے میں گم ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ماضی کے مسلم لیڈروں کی تقسیم کے مطابق، ہم ”ہندو انڈیا“ میں ہیں، اس لئے ہم ضرور تباہ حال ہوں گے۔ چنانچہ وہ ابھی تک وہی ماضی کی بولی بولے چلے جا رہے ہیں۔ حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ آج ہندوستان کے مسلمان پاکستان اور بنگلہ دیش کے مسلمانوں سے بھی زیادہ ترقی کر چکے ہیں۔ خود لکھنے اور بولنے والے طبقہ میں ایک ایک شخص اپنی ۱۹۴۷ کی حالت کے مقابلہ میں آج بہت زیادہ ترقی حاصل کئے ہوئے ہے۔ مگر تخلیقی فکر کی صلاحیت نہ ہونے کی وجہ سے انہیں اپنے قریبی واقعہ تک کا علم نہیں۔
ماضی کے مسلم رہنماؤں کی سوچ قانون فطرت کے خلاف تھی۔ چنانچہ ان مسلم رہنماؤں