ہما چل پردیش کا سفر
الرسالہ، مئی ۱۹۹۹، صفحہ ۱۰
کی باتیں فضا میں گم ہو گئیں ۔ اور فطرت کا قانون خود اپنی طاقت سے قائم ہو گیا۔ مگر موجودہ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ انہیں صرف اپنے اکابر کی باتوں کا علم ہے، انہیں خدا کے مقرر کئے ہوئے فطری قانون کا کوئی علم نہیں۔
دہلی سے مسر والا کا فاصلہ ڈھائی سو کلو میٹر سے کچھ زیادہ ہے۔ سڑک اچھی ہے۔ راستہ میں سونی پت، پانی پت، کرنال، جمنا نگر وغیرہ پڑتے ہیں۔ ہم لوگ ایک کے بعد ایک ان مقامات سے گزرتے ہوئے آگے بڑھتے رہے۔ میں نے سوچا کہ ان جگہوں کے نام اسی طرح صدیوں سے چلے آ رہے ہیں۔ لیکن ان کے قدیم باشندے آج پیدا ہوں تو ان جگہوں کی بدلی ہوئی صورت کی بنا پر شاید وہ انہیں پہچان نہ سکیں۔
سونی پت سے آگے بڑھے تو سڑک کے کنارے دو کاریں الٹی پڑی ہوئی تھیں ۔ دونوں بالکل چکنا چور ہو چکی تھیں۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ دونوں تیز رفتاری کے ساتھ دوڑ رہی تھیں چنانچہ جب دونوں کار کا آمنا سامنا ہوا تو دونوں میں سے کوئی بھی اپنی گاڑی کو کنٹرول نہ کر سکا اور دونوں ہی ٹکرا کر تباہ ہو گئیں۔
میں نے کہا کہ گاڑی خواہ کتنی اچھی ہو، اور ڈرائیور خواہ کتنا ہی ماہر ہو۔ بہر حال اس کو سڑک پر چلتے ہوئے اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہے کہ سڑک کے اوپر دوسری گاڑیاں بھی دوڑ رہی ہیں۔ اگر وہ اس حقیقت کا اعتراف نہ کرے تو کوئی بھی چیز اس کے کام نہیں آئے گی ۔ وہ خود بھی تباہ ہو گا اور اسی کے ساتھ اس کی تیز دوڑتی ہوئی گاڑی بھی۔
ڈیڑھ بجے ہم لوگ کرنال پہونچے۔ یہاں سڑک کے کنارے ایک مسجد ہے جس کے اوپر ”مسجد صغرا“ لکھا ہوا ہے۔ اس میں جمعہ کی نماز پڑھی۔ مسجد بظاہر قدیم تھی۔ مگر مزید تعمیر کر کے اس کو اندر سے نیا کر دیا گیا ہے۔ پوری مسجد نمازیوں سے بھری ہوئی تھی۔ مجھے قرآن کی آیت یاد آئی کہ جمعہ کی نماز کی اذان ہو تو نماز کے لئے اکٹھا ہو جاؤ اور جب نماز ختم ہو تو خدا کی زمین میں منتشر ہو جاؤ۔ میں نے سوچا کہ مسجد منتشرین کا مقام اجتماع ہے۔