ہما چل پردیش کا سفر
الرسالہ، مئی ۱۹۹۹، صفحہ ۱۱
اہل ایمان خدا کی زمین میں پھیلنے والے لوگ ہیں۔ وہ صرف وقتی طور پر مسجد میں ٹھہرتے ہیں تاکہ اس سے نئی توانائی لے کر دوبارہ آگے بڑھ سکیں۔
کرنال میں سڑکوں پر بہت سی مسجدیں دکھائی دیں۔ ایک عمارت پیچھے سے مسجد کی شکل کی تھی۔ لیکن آگے سے اس کو گور دوبارہ بنا دیا گیا تھا۔
کرنال میں ایک بہت بڑی مسجد ہے۔ اس کو اندر جا کر دیکھا۔ اس کے امام سید انور حسین صاحب سے ملاقات ہوئی۔ امام صاحب نے چائے کے لئے اصرار کیا مگر ہمارے پاس وقت کم تھا اس لئے معذرت کرنی پڑی۔ مسجد کے باہر ایک کتبہ لگا ہوا ہے۔ اس پر لکھا ہے ــــــــــ تعمیر کردہ نواب عظمت علی خاں، رئیس اعظم کرنال ۔ وہ نواب زادہ لیاقت علی خاں کے چچا تھے۔ ۔ انہوں نے یہ مسجد ۱۹۲۵ میں بنوائی تھی۔
۱۹۴۷ میں کرنال مکمل طور پر مسلمانوں سے خالی ہو گیا تھا۔ اب دوبارہ مسلمان آکر یہاں آباد ہو گئے ہیں۔ اس وقت کرنال میں مسلمانوں کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہے۔ دوپہر کا کھانا ہم لوگوں نے کرنال میں میور ریسٹوران میں کھایا۔ کھانے سے فارغ ہو کر باہر آئے تو ایک صاحب آگے بڑھ کر مجھ سے ملے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے آپ کو ٹی وی پر دیکھا تھا اس لئے پہچان گیا۔ آپ کی بات مجھے بہت اچھی لگی تھی۔ ان کا نام ایم آر کپور تھا۔ انہوں نے آٹو گراف کے لئے کہا۔ میں نے انگریزی کا ایک جملہ لکھ کر اس کے نیچے اپنے دستخط کر دیئے۔ اس درمیان میں کئی لوگ وہاں جمع ہو گئے۔ ایک خاتون نے بھی آٹو گراف لیا۔ عصر کی نماز ہم نے جمنا نگر میں پڑھی۔ وہاں سڑک کے کنارے ایک مسجد تھی۔ اس میں چار پانچ زیادہ عمر کے اور سیدھے سادے مسلمان نظر آئے ۔ ان سے پوچھا کہ جمنا نگر میں کتنی مسجدیں ہیں ، کسی نے کہا ایک ۔ کسی نے کہا تین ۔ غرض کافی پوچھ گچھ کے بعد معلوم ہوا کہ وہاں پانچ مسجدیں ہیں۔ اکبر الہ آبادی نے ۱۹۴۷ سے پہلے کے دور میں یہ شکایت کی تھی کہ : بازار میں ہیں لاکھوں، مسجد میں فقط حسن