Al-Risala · May 1999 · page 12

ہما چل پردیش کا سفر

الرسالہ، مئی ۱۹۹۹، صفحہ ۱۲

آج اگر چہ کمیت کے اعتبار سے مسجد کے نمازیوں کی آبادی کافی بڑھ گئی ہے مگر جہاں تک کیفیت کا تعلق ہے، اب بھی مسجد کی آبادی میں زیادہ تر ”جتن“ قسم کے لوگ ہی دکھائی دیتے ہیں۔

کرنال کے ریستو ران سے کھانا کھا کر ہم لوگ نکلے تو مولانا کبیر الدین صاحب پاس کی ایک دکان پر چلے گئے۔ وہاں انہوں نے پان خریدا جس کی قیمت دو روپیہ تھی۔ پان والا ایک نوجوان ہندو تھا۔ مولانا کبیر الدین صاحب نے پوچھا کہ تم کہاں کے رہنے والے ہو۔ اس نے کہا کہ سہارن پور۔ پھر پان والے نے کہا، کیا آپ کبھی سہارن پور گئے ہیں۔ مولانا کبیر الدین صاحب نے کہا کہ ہاں، میں نے وہاں تعلیم حاصل کی ہے۔ اس کے بعد اس نے پان کی قیمت نہیں لی۔ اس نوجوان کا نام ازن تھا۔ وہ دکان سے آکر مجھ سے ملا۔

مذکورہ واقعہ احساس قرابت کا کرشمہ تھا۔ سامنے کے آدمی کو اگر کسی طرح آپ قربت کا احساس دلا دیں، خواہ وہ قربت بالکل معمولی نوعیت کی کیوں نہ ہو تو فوراً وہ آپ کا گرویدہ ہو جائے گا۔ دو آدمیوں یا دو گروہوں کے درمیان اجنبیت ہمیشہ نقصان کا باعث ہوتی ہے۔ اس کے برعکس قربت اپنے آپ سارے معاملات کو درست کر دیتی ہے۔

ہم لوگ صبح ۱۰ بجے دہلی سے روانہ ہوئے تھے۔ شام کو عشاء کے قریب مسر والا پہنچے، اس سفر میں ہم کبھی آبادی کے درمیان سے گزرے اور کبھی خالی سڑک سے، کبھی ہمارا راستہ کھلے میدان سے طے ہوا اور کبھی ایسے راستہ سے جہاں دونوں طرف جنگل تھا۔

کبھی ہماری گاڑی نشیب پر چلی اور کبھی اس کو اونچائی کے اوپر چڑھنا پڑا۔ میں نے سوچا کہ اسی طرح پوری زندگی ایک سفر ہے جو آخرت پر جا کر ختم ہوتا ہے۔ دنیا میں آدمی مختلف احوال سے گزرتے ہوئے چلا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی موت آتی ہے اور وہ آخری طور پر اگلی دنیا میں داخل ہو جاتا ہے۔

نماز عشاء کے بعد مدرسہ کے دفتر میں اساتذہ اکٹھا ہوئے۔ اس موقع پر مختلف باتیں

‹ Previous page Next page › Contents of May 1999 All issues

Printed page