Al-Risala · May 1999 · page 13

ہما چل پردیش کا سفر

الرسالہ، مئی ۱۹۹۹، صفحہ ۱۳

ہوئیں ۔ ایک صاحب نے ا کہ کچھ لوگ آپ کے پیغام کے مخالف کیوں ہیں۔

میں نے کہا کہ میں تو سمجھتا ہوں کہ کوئی بھی شخص میرے پیغام کا مخالف نہیں۔ کیونکہ میرا پیغام وہی ہے جو خود فطرت کا قانون ہے۔ اور فطرت کے قانون کو نظر انداز کرنا کسی کے لئے ممکن ہی نہیں۔

پھر میں نے کہا کہ میری تحریریں ۹۹ فیصد اسلام کے تعارف پر مبنی ہوتی ہیں۔ کوئی بھی شخص ان کا مخالف نہیں۔ کیونکہ کہ اس میں کوئی نئی بات نہیں ہوتی۔ اس میں میں نے صرف یہ کیا ہے کہ اسلام کی متفقہ تعلیمات کو جدید اسلوب میں پیش کیا ہے۔ اس کا کوئی مخالف نہیں ہو سکتا۔ ایک فیصد وہ ہے جس کا تعلق برادران وطن سے ہے۔ اس سلسلہ میں میرا کہنا ہے کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ برادران وطن کے ساتھ مل جل کر رہیں اور اگر کبھی کسی کی طرف سے اشتعال انگیزی ہو تو اس سے اعراض کریں تا کہ پر امن فضا باقی رہے۔ اس پر بھی تمام کے تمام مسلمان عامل ہیں۔ آپ کسی بھی مسلمان کو لیجئے اور دیکھئے کہ اس کا ذاتی معاملہ جن ہندوؤں سے ہے اس کے ساتھ وہ کس قسم کا سلوک کرتا ہے۔ آپ پائیں گے کہ یہ عین وہی ہے جس کی طرف الرسالہ میں توجہ دلائی جارہی ہے۔ میں نے صرف یہ کیا ہے کہ میں لوگوں کے عمل کا اعلان کر رہا ہوں۔

عشاء کی نماز مدرسہ قادریہ کی مسجد میں پڑھی۔ مسجد بالکل جدید طرز کی ہے اور سادگی کے ساتھ خوبصورتی کا عمدہ نمونہ ہے۔ اس کی خصوصیات کی تصویر کشی لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔ اس کو آنکھوں سے دیکھ کر ہی سمجھا جا سکتا ہے۔

عشاء کی نماز کے بعد طلبہ نے مصافحہ کیا۔ اکثر ایسے موقع پر لوگ بھیڑ کی صورت میں مصافحہ کرتے ہیں۔ مگر یہاں یہ ہوا کہ طلبہ نے مسجد کی دیوار سے مل کر قطار بنائی اور ایک ایک ۔ طالب علم آگے بڑھ کر مصافحہ کرتا رہا۔ اس طرح تقریباً دو سو طلبہ نے مصافحہ کیا۔ مدرسہ کے قریب سے ایک اہم سڑک گزرتی ہے۔ مگر اس سڑک کو مدرسہ سے جوڑنے

‹ Previous page Next page › Contents of May 1999 All issues

Printed page