Al-Risala · May 1999 · page 14

ہما چل پردیش کا سفر

الرسالہ، مئی ۱۹۹۹، صفحہ ۱۴

کے لئے درمیان میں پختہ راستہ نہیں تھا۔ ۱۹۸۴ میں مدرسہ میں ایک بڑا جلسہ ہو رہا تھا۔ منتظمین نے ریاستی حکومت کے نام ایک درخواست بھیجی کہ ہمارے یہاں ایک بڑا مذہبی جلسہ ہونے والا ہے۔ لوگ دور دور سے اس میں شرکت کے لئے آئیں گے۔ مگر عام سڑک اور مدرسہ کے درمیان اچھا راستہ نہیں ہے۔ اس کے بعد حکومت کی طرف سے مدرسہ تک ایک پختہ سڑک بنادی گئی۔ میں نے چل کر دیکھا تو وہ ۲۸۰ قدم لمبی تھی۔

مدرسہ کے مہمان خانہ میں بیٹھا ہوا چائے پی رہا تھا۔ اتفاق سے میرا ہاتھ ہلا اور چائے میری چادر پر گر گئی۔ مولانا کبیر الدین فاران مظاہری نے فوراً میری چادر لے کر ایک طالب علم کو دیا کہ اسے لے جا کر ابھی دھو دو۔ یہ رات کا وقت تھا۔ میں نے سوچا کہ اس وقت تو چادر سوکھے گی نہیں۔ کل اس کو دھوپ میں ڈالنا ہوگا۔ پھر غالباً دوپہر تک وہ سوکھ کر مجھے ملے گی۔ میں اسی خیال میں تھا کہ ۲۰ منٹ کے بعد طالب علم نے صاف چادر لا کر میرے پاس رکھ دی۔ اتنی دیر میں وہ دھوئی گئی، سکھائی گئی اور پریس کر کے تہ کی گئی اور پھر میرے پاس واپس آگئی۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1999 All issues

Printed page