Al-Risala · May 1999 · page 15

ہما چل پردیش کا سفر

الرسالہ، مئی ۱۹۹۹، صفحہ ۱۵

اس کا راز یہ تھا کہ یہاں مدرسہ میں جدید طرز کی واشنگ مشین موجود ہے جو دھونے کے بعد فوراً سکھانے کا کام بھی کردیتی ہے۔ یہ ایک علامتی واقعہ ہے جس سے مدرسہ کی حالت کا اندازہ ہوتا ہے۔ نصاب کے اعتبار سے یہ ایک ”قدیم طرز“ کا مدرسہ ہے۔ مگر نظام اور تعمیرات کے اعتبار سے وہ بالکل جدید اور اپٹوڈیٹ ہے۔ اس کو دیکھ کر میں نے کہا کہ آپ نے تو اپنے مدرسہ کو ایک ماڈرن مدرسہ بنا دیا۔

اسی طرح مدرسہ میں آٹا پیسنے کی مشین ہے۔ مدرسہ کی ضرورت کا آٹا خود اپنی مشین میں پیسا جاتا ہے، وغیرہ۔

ایک بار ایک مسلمان تاجر مدرسہ قادریہ میں آئے۔ انہوں نے طلبہ کو دیکھ کر کہا آپ کے طلبہ کے کپڑے صاف نہیں ہیں۔ پھر یہی تبصرہ انہوں نے تمام مدارس کے بارہ میں کیا۔ مولانا کبیر الدین صاحب نے کہا کہ آپ لوگ تنقید تو کر رہے ہیں مگر آپ اس کا حل نہیں بتاتے۔ انہوں نے کہا کہ حل کیا ہے۔ مولانا کبیر الدین صاحب نے کہا کہ حل بہت سادہ ہے۔ آپ پیسہ دیجئے ہم واشنگ مشین منگاتے ہیں۔ اور پھر آپ دیکھیں گے کہ ہمارے مدرسہ کے بچے کتنے ستھرے ہیں۔

مذکورہ تاجر کو یہ بات اثر کر گئی۔ وہ فوراً اس پر راضی ہوگئے۔ چنانچہ دہلی جاکر انہوں نے مدرسہ کے لئے گاڈ ریج کی واشنگ مشین بھجوادی جو اس وقت سب سے اچھی سمجھی جاتی تھی۔ یہ ایک صحت مند مثال ہے۔ مدرسہ والے با عزت انداز میں تعاون مانگیں اور اصحاب خیر بھی با عزت انداز میں اپنا مالی تعاون دیں تو دینی اداروں کا کام نہایت حسن وخوبی کے ساتھ چلنے لگے گا۔

عشاء کی نماز کے بعد مدرسہ کے دفتر میں نشست ہوئی۔ اساتذہ بھی آگئے۔ دیر تک ملتی موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی۔ میں نے مولانا کبیر الدین مظاہری سے کہا کہ آپ نے اپنے مدرسہ کو جدید انداز میں بنایا ہے۔ اب یہاں ایک اور روایت قائم کیجئے۔ میں نے کہا کہ باہر سے جب کوئی

‹ Previous page Next page › Contents of May 1999 All issues

Printed page