ہما چل پردیش کا سفر
الرسالہ، مئی ۱۹۹۹، صفحہ ۱۶
شخص کسی مدرسہ میں آتا ہے تو عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ گفتگو یک طرفہ انداز میں ہوتی ہے۔ یعنی آنے والا بولتا ہے، اور مدرسہ کے لوگ صرف سامع بنے ہوئے بیٹھے رہتے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ یہاں تبادلہ خیال کے انداز میں گفتگو ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے یہاں یہ روایت پہلے سے قائم ہے۔ چنانچہ اسی انداز میں دیر تک گفتگو ہوتی رہی۔
مدرسہ کا دفتر دیکھ کر خوشی ہوئی۔ یہ بالکل جدید طرز کا ایک دفتر تھا۔ ایک خوبصورت میز کے گرد خوبصورت کرسیاں بچھی ہوئی تھیں۔ میز پر کیلکولیٹر، ٹیلی فون، اور دوسری جدید نوعیت کی دفتری چیزیں رکھی ہوئی تھیں۔ مولانا کبیر الدین مظاہری برابر ٹیلی فون پر رابطہ قائم کرکے لوگوں کو میری آمد کی اطلاع دیتے رہے اور پروگرام مرتب کرتے رہے۔ کیونکہ میں اچانک یہاں آیا تھا، اور اب ٹیلی فون ہی کے ذریعہ پروگرام کو منظم کیا جا سکتا تھا۔ ہماچل پردیش کا علاقہ ۱٩٧۲ء میں مکمل طور پر فرقہ پرستی کی زد میں تھا جو ملک کی تقسیم کے نتیجہ میں پیدا ہوئی تھی۔ چنانچہ مدرسہ قادریہ کے ساتھ بھی بار بار یہاں اشتعال انگیزی اور فساد کے مسائل پیدا ہوئے۔ مگر مولانا کبیر الدین صاحب نے حکمت اور تحمل کے ذریعہ ہر موقع پر کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے چنگاری کو ہوا دینے کے بجائے اس کو پہلے مرحلہ ہی میں بجھا دیا۔ یہاں کی کئی چیزیں دوسرے مدارس کے لئے قابل تقلید ہیں۔ مثلاً یہاں کا اصول ہے کہ دو استاد اگر آپس میں جھگڑیں تو دونوں ہی کو با عزت طور پر رخصت کر دیا جاتا ہے۔ اس بنا پر یہاں ایسا ہے کہ دو استادوں کے درمیان اگر نزاع پیدا ہو تو وہ آپ ہی آپ اس کو ختم کر لیتے ہیں۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ مسئلہ نظامت تک پہنچا تو دونوں کو علیحدہ کر دیا جائیگا۔ طلبہ کو یہ اجازت نہیں کہ وہ اساتذہ کی ذاتی خدمت کریں۔ مثلاً کوئی طالب علم کسی استاذ کا سر اور پاؤں نہیں دبا سکتا اور نہ ہی سر میں تیل لگا سکتا ہے۔ اسی قاعدہ کو برقرار رکھنے کے لئے یہاں جوان العمر اساتذہ رکھے گئے ہیں کیونکہ اس قسم کے رواج اکثراً نہیں مدارس میں پائے جاتے ہیں جہاں بوڑھے اور زیادہ عمر کے اساتذہ ہوں۔ تاہم اسی کے ساتھ طلبہ کو یہ تاکیدی حکم ہے کہ وہ