Al-Risala · May 1999 · page 17

ہما چل پردیش کا سفر

الرسالہ، مئی ۱۹۹۹، صفحہ ۱۷

ہرگز اپنے استاد کی نافرمانی نہ کریں۔

۱۸ نومبر کی صبح کو سوا پانچ بجے مسجد سے اذان کی آواز آئی۔ یہ لاؤڈ اسپیکر کے بغیر تھی۔ یہاں چاروں طرف فطرت کا ماحول ہے۔ اس ماحول میں اذان کی دھیمی آواز بہت اثر انگیز تھی۔ ایسا محسوس ہوا جیسے موذن نے فطرت کے دھیمے لہجہ میں ذکرِ خدا وندی کا نغمہ بکھیر دیا ہو۔ فجر کی نماز میں امام صاحب نے سورہ جمعہ کی تلاوت کی۔ نماز کے بعد میں نے ایک صاحب سے کہا کہ دیکھئے قرآن میں ہے کہ زمین و آسمان کی تمام چیزیں خدا کی تسبیح کر رہی ہیں (الجمعہ ۱) مگر آپ جانتے ہیں کہ یہ تسبیح سنائی نہیں دیتی۔ گویا فطرت کی زبان خاموشی کی زبان ہے۔ شور کی زبان فطرت کی زبان نہیں۔

مولانا کبیر الدین صاحب نے یہاں کی مسجد میں لاؤڈ اسپیکر نہیں لگایا ہے۔ اس کا علاقہ پر بہت اچھا اثر پڑا ہے۔ یہاں کے ہندو کہتے ہیں کہ دیکھو، یہ کتنا اچھا مولانا ہے۔ وہ شور والا کام نہیں کرتا۔ وہ خاموشی کے ساتھ اپنے دھرم کی سیوا کر رہا ہے۔

میں نے مولانا کبیر الدین صاحب سے کہا کہ آپ جو کر رہے ہیں وہ عین اسلامی طریقہ ہے۔ مسجدوں میں لاؤڈ اسپیکر کا استعمال تو مجھے ایک بدعت معلوم ہوتا ہے۔ حدیث میں فتنہ کے زمانہ کی علامتوں میں سے ایک علامت یہ بتائی گئی ہے کہ اس وقت مسجدوں میں آوازیں بلند ہوں گی (رفعت الاصوات في المساجد)۔

فجر کی نماز ختم ہوئی تو ایک بچہ نے کھڑے ہو کر مختلف اوقات کی دعائیں بلند آواز سے بتائیں۔ مثلاً کھانے کے بعد یہ دعا پڑھیں، سونے کے وقت یہ دعا پڑھیں، وغیرہ۔ نماز کے بعد طالب علموں کے اٹھ کر جانے کا انداز بھی نہایت منظم تھا۔ طالب علم اچانک بھیڑ کی صورت میں نہیں اٹھے۔ میں نے دیکھا کہ لمبی صف کے دائیں طرف سے باری باری صرف ایک طالب علم اٹھتا اور خاموشی سے باہر چلا جاتا۔ اس طرح تمام طلبہ قطار بنا کر باہر نکلے۔ مسجد کے گیٹ کے باہر آتے ہی تمام طلبہ نے دوڑ لگانا شروع کی۔ دوڑ ایک استاد کی نگرانی

‹ Previous page Next page › Contents of May 1999 All issues

Printed page