ہما چل پردیش کا سفر
الرسالہ، مئی ۱۹۹۹، صفحہ ۱۸
میں ہوئی۔
میں نے سوچا کہ یہ منظر اگر ٹی وی پر دکھا دیا جائے تو لوگوں کو حقیقت معلوم ہو۔ کچھ غیر مسلم حضرات غلط طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ مسجد اور مدرسہ میں ہتھیاروں کی ٹریننگ ہوتی ہے۔ انہیں بر عکس طور پر نظر آئے گا کہ مسجد میں آداب حیات سکھائے جاتے ہیں۔ یہاں طلبہ کو جسمانی ورزش کرائی جاتی ہے۔ یہاں ایک ایک طالب علم کو اس قابل بنایا جاتا ہے کہ وہ شہری تقاضوں کو نبھائے۔ وہ ڈسپلن والی زندگی گزار سکے ۔ وہ یہاں تربیت پا کر ایک اچھا انسان بن جائے۔
نماز اول وقت میں ہوئی۔ چنانچہ مسجد کے باہر ابھی زیادہ اجالا نہیں ہوا تھا۔ اب پروگرام کے مطابق تمام طلبہ سڑک پر پہنچے اور کچھ دیر تک دوڑ لگاتے رہے۔ یہ یہاں کاروزانہ کا معمول ہے۔ واپس آکر تمام طلبہ تلاوت قرآن میں مشغول ہو گئے۔
یہ مدرسہ ۳۶ بیگبہ زمین میں واقع ہے۔ وسیع رقبہ میں ایک شاندار اسلامی دنیا ابھر رہی ہے۔ مگر ایک صاحب کے الفاظ میں ” کبھی کوئی ہندو نہیں بولا۔ کبھی کوئی ہندو ڈنڈالے کر نہیں آیا۔ اتنا بڑا کام نہایت پر سکون طور پر یہاں انجام پا رہا ہے “۔ میں نے کہا کہ یہ سب حکمت کا نتیجہ ہے جس کو آپ لوگوں نے خدا کے فضل سے اختیار کیا ہے۔
ایک استاذ نے کہا کہ ہم نے دیکھا ہے کہ سیکولر لوگ سیاسی پلیٹ فارم پر آپس میں لڑتے ہیں اور پھر دونوں ایک ساتھ بیٹھ کر چائے پیتے ہیں۔ مگر علماء کا یہ حال ہے کہ دو عالم اگر ایک بار کسی بات پر لڑگئے تو دوبارہ وہ کبھی نہیں ملیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک عالم سے میں نے یہ بات کہی تو انہوں نے جواب دیا کہ سیکولر لوگ مکار ہوتے ہیں۔ اس لئے ایسا کرتے ہیں۔ مگر علماء تو مخلص لوگ ہیں۔ جب میں اپنے کو حق پر سمجھوں تو میں کس طرح دوسرے سے مل سکتا ہوں۔ استاذ نے کہا کہ آپ کا یہ جواب درست نہیں۔ اس لئے کہ حدیث میں آیا ہے کہ دو مسلمانوں کے در میان تین دن سے زیادہ ترک کلام اور ترک تعلق شریعت میں جائز نہیں۔ اس کا