ہما چل پردیش کا سفر
الرسالہ، مئی ۱۹۹۹، صفحہ ۱۹
مذکورہ عالم کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ اپنے مخالف کو غلط ثابت کرنے کے لئے وہ اسلام کے اصولوں کا حوالہ دے رہے تھے ، مگر خود اپنے اوپر اسلام کے اصول کو منطبق کرنے پر وہ راضی نہ ہوئے۔
مدرسہ سے ملحق ایک زمین تھی۔ اس پر عملاً مدرسہ کا قبضہ تھا۔ تاہم کاغذی اعتبار سے وہ کچھ ہندوؤں کی تھی۔ چونکہ نئے قانون کے مطابق قابض ہی مالک ہوتا ہے ۔ اس لئے وہ لوگ سمجھتے تھے کہ یہ زمین اب ہم کو نہیں ملے گی۔
ایک بار زمین کے مالکان یہاں آئے۔ انہوں نے مولانا کبیر الدین صاحب سے کہا کہ یہ زمین جو آپ کے قبضہ میں ہے، اس کے اصل مالک ہم لوگ ہیں۔ مولانا کبیر الدین صاحب نے کہا کہ اسلام میں قبضہ کوئی چیز نہیں۔ زمین کا جو مالک ہے وہی اس کا مالک رہے گا۔ مولانا کبیر الدین صاحب کی زبان سے یہ غیر متوقع بات سن کر وہ لوگ بہت متاثر ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس زمین کو بیچنا چاہتے ہیں۔ مگر آپ کو خریداری کا پہلا حق ہوگا۔ مزید یہ کہ انہوں نے مارکٹ ریٹ سے بہت کم قیمت میں اس زمین کو مدرسہ کے لئے دینا منظور کر لیا۔ حالانکہ مولانا کبیر الدین صاحب نے ان سے اس سلسلہ میں کچھ نہیں کہا تھا۔ بہت سے ہندی اخبار والے مدرسہ کو دیکھنے کے لئے آئے۔ انہوں نے اس کے بارہ میں اچھی رپورٹیں شائع کیں۔ ایک ہندی اخبار نے لکھا کہ یہ ہماچل پردیش کا شانتی نکیتن ہے۔ چندی گڑھ کے ہندی روزنامہ دینک ٹریبیون (۱۳ اگست ۱۹۹۲) میں ایک رپورٹ مسلم مدارس کے بارے میں چھپی۔ اس کی سرخی تھی: "بھارت کے مدرسوں میں ہو رہی ہے کٹر پنتھی کی پڑھائی"۔ اسی طرح پنجاب کیسری (۷ دسمبر ۱۹۹۲) میں رپورٹ چھپی جس کی سرخی یہ تھی: "ہماچل میں چلائے جا رہے مدرسے شکنجا پر ساز کے بجائے آتنک واد کا پر شکشن دے رہے ہیں" اسی طرح انڈین ایکسپریس کی چندی گڑھ اشاعت (۲۲ اگست ۱۹۹۲) میں رپورٹ چھپی جس کی سرخی یہ تھی : ISI bid to recruit HP youths via madrasas