ہما چل پردیش کا سفر
الرسالہ، مئی ۱۹۹۹، صفحہ ۲۰
اس قسم کی خبروں کے ذریعہ اس علاقہ میں دینی مدارس کے خلاف پروپیگنڈہ بڑھا۔ اس کا خاص نشانہ مسر والا کا مدرسہ قادریہ تھا۔ مگر یہ پروپیگنڈہ زحمت میں رحمت ثابت ہوا۔ پولیس اور انتظامیہ دونوں تحقیق کے لئے متحرک ہو گئے ۔ اور آخری رپورٹ عین مدرسہ کے حق میں نکلی۔ اس سلسلہ میں بہت سی موافق باتیں پریس میں آئیں جن سے فضا مزید اضافہ کے ساتھ مدارس کے حق میں ہو گئی۔ مثلاً جن ستا (۱۱ جون) میں رپورٹ چھپی۔ اس کا عنوان تھا: بھائی چارہ کا پرتیک ہے مسر والا کامدرسہ حتی کہ ہماچل کے چیف منسٹر راجہ ویر بھدر سنگھ نے اسٹیٹ اسمبلی میں اس کی تردید کی۔ دینک ٹریبیون (۲۰ دسمبر) میں یہ رپورٹ اس سرخی کے ساتھ چھپی: ”مدرسوں میں بھارت ورود ھی گتی ودھیاں نہیں۔ “ اخبار والوں کی کئی پارٹیاں مدرسہ قادریہ میں آئیں ۔ اور ہر چیز کو دیکھنے کے بعد اپنے اخباروں میں یہ رپورٹ چھاپی کہ ہم نے خود جا کر تحقیق کی اور تمام مخالفانہ پروپیگنڈوں کو غلط پایا۔ ان رپورٹوں کو پڑھنے کے بعد میں نے مدرسہ کے ذمہ داروں سے کہا کہ یہ آپ کے حق میں رفع ذکر کا معاملہ تھا۔ اور جب آدمی حق پر ہو تو ہر رفع ذکر عسر میں یسر کا سبب بن جاتا ہے۔ مدرسہ قادریہ مسروالا ہماچل پردیش ایک ایسے علاقہ میں واقع ہے جس کے اطراف میں غیر مسلموں کی بڑی آبادی ہے۔ مدرسہ والوں کے ان حضرات سے گہرے مراسم کی وجہ سے ان حضرات کی برابر یہاں آمد و رفت رہتی ہے، حتی کہ خوشی اور غمی میں بھی وہ مدرسہ والوں کو شریک کرتے ہیں۔ اور اپنے نجی مسائل میں یہاں کے ذمہ داروں سے مشورہ کرتے ہیں۔ نیز یہاں آکر اسلام کی معلومات، اسلامی اخلاق اور مدرسہ کی حب الوطنی اور سیاست سے دوری اور علماء کی سادگی کو دیکھ کر کہتے ہیں کہ ایسے اسلامی ادارے ملک کے گوشہ گوشہ میں ہونے چاہئیں۔ کیونکہ یہ ادارے امن و محبت کا پیغام ہوتے ہیں، حتی کہ وہ غیر مسلم جن کو عام طور پر کٹر پنتھی کہا جاتا ہے وہ بھی یہاں کے ماحول سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتے۔ ان آنے والوں میں عام سرکاری ملازم سے لے کر وزیر اعلیٰ ہماچل پردیش جیسے افراد بھی شامل ہیں۔