Al-Risala · May 1999 · page 21

ہما چل پردیش کا سفر

الرسالہ، مئی ۱۹۹۹، صفحہ ۲۱

افغانستان کے طالبان میں سے بعض افراد نے ایک انٹرویو کے دوران یہ کہا تھا کہ ہماری تعلیم دیوبند کے مدرسہ میں ہوئی ہے۔ اس کو ہندوستان کے کچھ ہندی اخباروں میں اس طرح چھاپا گیا کہ طالبان نے جنگ جوئی کا سبق دیوبند کے مدرسہ میں رہ کر حاصل کیا ہے۔ اس کو مزید عام کر کے ہندی پریس میں یہ کہا گیا کہ ہندوستان کے اسلامی ادارے اگر واد اور علیحدگی پسندی کی تعلیم دیتے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ ان مدرسوں کا بھارتیہ کرن کیا جائے۔ اس کے بغیر ہمارے ملک میں شانتی اور اتحاد قائم نہیں ہو سکتا۔

یہ بات بلاشبہ بالکل بے بنیاد ہے۔ میں خود مدرسہ ہی کا ایک پروڈکٹ ہوں اور جانتا ہوں کہ ان مدرسوں کا کوئی تعلق اگر واد یا علیحدگی پسندی سے نہیں۔ یہ مدرسے سادہ طور پر عربی زبان اور دین اسلام کی تعلیم دیتے ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ کچھ افغانی نوجوانوں نے دیوبند کے مدرسہ میں تعلیم پائی ہے مگر یہ تعلیم سادہ طور پر دین کی تھی نہ کہ جنگ جوئی کی۔ پنڈت جواہر لال نہرو اور دوسرے کئی نیشنل لیڈروں کی تعلیم لندن میں ہوئی۔ ہندوستان واپس آنے کے بعد وہ انگریزوں کے خلاف جنگ آزادی میں شریک ہو گئے۔ اب کیا یہ کہنا صحیح ہو گا کہ ان لیڈروں کو لندن کے اسکولوں میں انگریزوں کے خلاف لڑنے کی تعلیم دی گئی تھی۔ ۱۹۴۷ سے پہلے جو لوگ آزادی کی تحریک میں شریک ہوئے اور ”انگریز و بھارت چھوڑو‘‘ کانعرہ لگایاوہ تقریباً سب کے سب ہندوستان کے ان انگریزی اسکولوں کے پڑھے ہوئے تھے جو برٹش دور میں قائم کئے گئے۔ ان کی بابت لارڈ میکالے نے کہا تھا کہ ان انگریزی اسکولوں کا مقصد یہ ہے کہ یہاں ایسی نسل پیدا ہو جوپیدائش کے اعتبار سے ہندوستانی ہو اور اپنی سوچ کے اعتبار سے انگریز۔ مگر انہیں انگریزی اسکولوں میں پڑھ کر لوگ انگریز کے خلاف جنگ میں شامل ہو گئے ۔ اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ اس وقت انگریزی اسکولوں میں انگریزی حکومت کے خلاف لڑائی کی تعلیم دی جاتی تھی۔

یہی معاملہ افغانیوں کا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ کچھ افغانی نوجوانوں نے ہندوستان کے دینی

‹ Previous page Next page › Contents of May 1999 All issues

Printed page