Al-Risala · May 1999 · page 22

ہما چل پردیش کا سفر

الرسالہ، مئی ۱۹۹۹، صفحہ ۲۲

مدرسہ میں داخلہ لے کر یہاں تعلیم حاصل کی۔ اس کی بعد اپنے وطن جاکر جب وہ وہاں کے عسکری تحریک میں شامل ہو گئے تو اس کا کوئی تعلق ہندوستان کے دینی مدرسہ سے نہ تھا۔ جنگ جوئی کا سبق انہوں نے خود اپنے ملک سے لیا۔ اس کا کوئی تعلق ان کی بیرونی تعلیم سے نہیں۔ کچھ عرصہ پہلے یہاں کے مدرسہ میں حیدر آباد کا ایک طالب علم تھا۔ وہ جوڈو کراٹے سیکھے ہوئے تھا۔ مدرسہ کے قریب ایک نہر ہے۔ وہ اکثر اسی نہر پر جایا کرتا تھا۔ ایک روز وہاں ایک ہندو لڑکا تھا۔ وہ مذکورہ طالب علم کے پاس کھڑا ہو کر بار بار نہر میں کودتا تھا۔ اس کی وجہ سے طالب علم پر پانی کے چھینٹے آتے تھے۔ طالب علم نے منع کیا، وہ نہیں مانا تو طالب علم نے اس ہندو لڑکے کو مار دیا۔ وہ روتا ہوا گھر گیا۔ اس کے بعد اس کی ماں آئی اور طالب علم کو ڈانٹ ڈپٹ کرنے لگی۔ طالب علم نے اس ہندو عورت پر جوڈو کراٹے کا فن استعمال کیا۔

اس سے ہندو آبادی میں اشتعال پیدا ہو گیا۔ وہ لوگ مدرسہ پر آئے۔ مولانا کبیر الدین صاحب نے کہا کہ یہ طالب علم کی غلطی ہے اور سب کے سامنے طالب علم سے معافی منگوائی۔ اس کے بعد معاملہ ٹھنڈا ہو گیا۔

تاہم ایسے سنگین معاملہ میں اتنی آسانی سے ہندوؤں کے ٹھنڈا پڑ جانے کا ایک پس منظر بھی تھا۔ اس سے پہلے مدرسہ کے طلبہ نے ہندو آبادی پر اچھا اثر ڈالا تھا۔ مدرسہ سے ملے ہوئے ان لوگوں کے کھیت ہیں۔ مگر طلبہ چونکہ مدرسہ کے تحت ڈسپلن میں رہتے ہیں۔ انہوں نے کبھی ان ہندو کسانوں کو شکایت کا موقع نہیں دیا۔ ایک بار گاؤں میں آگ لگ گئی تو تمام طلبہ دوڑ کر وہاں گئے اور ہندوؤں کے ساتھ مل کر آگ بجھائی۔ اس پیشگی اخلاقی اثر کی وجہ سے ہندو زیادہ مشتعل نہیں ہوئے۔

ان میں سے کچھ لوگوں نے خود ہی یہ کہنا شروع کر دیا کہ مدرسہ والے غلط لوگ نہیں ہیں۔ اس میں غلطی دونوں کی ہو گی۔

میں نے کہا کہ اس سنگین معاملہ کو فساد تک پہنچنے سے جس چیز نے روکا وہ "جوڈو کراٹے" کا

‹ Previous page Next page › Contents of May 1999 All issues

Printed page