ہما چل پردیش کا سفر
الرسالہ، مئی ۱۹۹۹، صفحہ ۲۳
فن نہیں تھا۔ بلکہ اخلاق اور حسن کردار تھا۔ ایک استاد کے الفاظ میں ایسا اس لیے ہوا کہ : ”ہم نے پہلے سے یہ ثابت کر رکھا تھا کہ ہم آپ کے ہمدرد ہیں۔ ہم آپ کے غم میں شریک ہیں“۔ حاجی ڈی خان ۱۹۲۷) مسروالا کے قدیم باشندہ ہیں۔ ۱۸ نومبر کی صبح کو ان سے ملاقات ہوئی۔ وہ گورنمنٹ سروس کر رہے ہیں۔ ان سے میں نے پوچھا کہ آپ نے یہاں ۱۹۴۷ سے پہلے کا زمانہ بھی دیکھا ہے اور ۱۹۴۷ سے بعد کا بھی۔ دونوں زمانوں میں کیا فرق ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت فرق ہے۔ پہلے دونوں فرقوں میں محبت تھی، اب دونوں کے اندر نفرت آگئی ہے۔ میں نے پوچھا کہ پہلے کیوں محبت کا تعلق تھا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے آپس میں ملنا جلنا خوب ہوتا تھا۔ شادی بیاہ میں دونوں ایک دوسرے کے یہاں جاتے تھے۔ دونوں ایک دوسرے کے تیوہاروں میں شریک ہوتے تھے۔ کام دھندے میں بھی بار بار ملنا ہوتا تھا۔ اب دونوں میں دوری ہوگئی ہے۔
یہ بہت صحیح بات ہے۔ یہ سارا معاملہ اختلاط کا معاملہ ہے۔ دونوں میں دوبارہ خوش گوار تعلقات قائم کرنے کے لئے آج سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ دونوں میں زیادہ سے زیادہ اختلاط کی صورتیں پیدا کی جائیں۔
”ہمارے لوگوں میں قلبی لگاؤ نہیں خدا سے۔ دکھاوا زیادہ ہے، لگن کم ہے“ انہوں نے بڑی سادگی کے ساتھ کہا۔ انہوں نے بتایا کہ مسروالا میں دو مسجدیں تھیں۔ اب ایک اور مسجد بنائی جارہی ہے۔
مولانا کبیر الدین صاحب جب اس علاقہ میں آئے تو پہلے وہ رائے پور میں مقیم ہوئے۔ وہاں آرایس ایس کا ایک آدمی تھا جس کا نام سری نواس بنسل تھا۔ عام مسلمان اس سے نالاں تھے۔ مگر وہ مولانا کبیر الدین صاحب کا معتقد ہو گیا۔ حتی کہ جب وہ مسروالا آگئے تو وہ ان سے ملنے کے لئے یہاں آنے لگا۔ وہ مولانا کے گھر کا کھانا نہیں کھاتا تھا بلکہ گاؤں میں جاکر کسی ہندو کے یہاں کھاتا۔ مگر مولانا کبیر الدین صاحب سے اس کے تعلقات بہت اچھے تھے۔