ہما چل پردیش کا سفر
الرسالہ، مئی ۱۹۹۹، صفحہ ۲۴
گفتگو سے میں نے اندازہ لگایا کہ سری نواس بنسل کو مولانا کبیر الدین صاحب کی سادگی، اصول پسندی ، وقت کی پابندی اور کسی سے نفرت نہ کرنے کا مزاج اس کے لئے باعث کشش ثابت ہوا۔
18 نومبر کو ناشتہ کرتے ہوئے میں نے مولانا کبیر الدین صاحب سے پوچھا: "کوئی ہندو اپنے بچہ کو مدرسہ میں داخل کرنا چاہے تو آپ داخل کریں گے" انہوں نے فوراً کہا کہ ہاں۔ پھر بولے: مگر دار الاقامہ میں نہیں۔ میں نے پوچھا کہ کیوں۔ انہوں نے کہا کہ اس کو یہاں تنگی ہوگی۔ میں نے دوبارہ پوچھا کہ اگر وہ تنگی کو برداشت کرے تو، انہوں نے کہا پھر تو کوئی ہرج نہیں۔ ہم اس کو دار الاقامہ میں بھی رکھ لیں گے۔
عام طور پر مدارس کا یہ مزاج نہیں ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر مدرسہ میں کوئی ہندو بچہ ہوگا تو وہ مدرسہ کے ماحول کو خراب کرے گا۔ حالانکہ یہ بالکل بے بنیاد اندیشہ ہے۔ یہ قانون فطرت کے خلاف ہے۔ سیکڑوں اور ہزاروں لوگوں کے ماحول میں ایک غیر مسلم بچہ ہو تو وہ خود متاثر ہوگا نہ یہ کہ وہ دوسروں کو متاثر کر ڈالے۔ اس کا عملی ثبوت یہ ہے کہ ۱۹۴۷ سے پہلے کے دور میں اسی ملک میں مسلم مدارس میں ہندو بچے بھی پڑھتے تھے اور اس کا نتیجہ اسلام کے لئے بہتر صورت میں نکلتا تھا۔
1992ء کے آخر میں کچھ فرقہ پرست عناصر نے یہ اعلان کیا کہ 6 دسمبر 1992ء کو وہ بڑی تعداد میں اجودھیا میں داخل ہوں گے اور بابری مسجد کو توڑ کر وہاں رام مندر بنائیں گے۔ اس کے بعد ملک میں جگہ جگہ تناؤ پیدا ہو گیا۔ اسی اثناء میں نومبر 1992 میں پونٹا صاحب (ہماچل پر دیش) کے پاس ایک گاؤں میں ایک اشتعال انگیز واقعہ ہوا۔ کچھ شرپسندوں نے ایک مسلمان کی زمین پر قبضہ کر کے رات کے وقت وہاں ایک مندر کی تعمیر شروع کردی۔
دیواریں کھڑی ہو چکی تھیں ، ابھی چھت نہیں بنی تھی کہ وہاں مسلمان آگئے اور فرقہ وارانہ نزاع کی صورت پیدا ہوگئی۔ اس کے بعد پولیس کیس بن کر معاملہ عدالت میں پہنچا۔