ہما چل پردیش کا سفر
الرسالہ، مئی ۱۹۹۹، صفحہ ۲۵
عدالت نے تحقیقات کے بعد تعمیر کو غیر قانونی قرار دے دیا اور حکم دیا کہ اس کو توڑ کر اس کی سابقہ حالت بحال کردی جائے۔
اس کے بعد گاؤں میں ایک میٹنگ ہوئی۔ اس میں پولیس افسر ، مقامی ہندو، علاقہ کے ایم ایل اے فتح سنگھ (بی جے پی) وغیرہ شامل تھے۔ مولانا کبیر الدین فاران مظاہری بھی اس میٹنگ میں علاقہ کے عالم کی حیثیت سے موجود تھے۔ لوگ کسی فیصلہ پر نہیں پہنچ رہے تھے۔ کیوں کہ پولیس اگر مندر کو گرادے تب بھی یہ اندیشہ تھا کہ نفرت اور کشیدگی بڑھے گی اور نئے مسائل کھڑے ہو جائیں گے جس کو روکنے کے لئے کوئی عدالت یا پولیس یہاں موجود نہ ہوگی۔ اس وقت مولانا کبیر الدین مظاہری نے جرأت مندانہ اخلاق کا ثبوت دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہاں پر ایک شبھ کام اشھد انداز میں ہوا ہے۔ مگر اب چونکہ یہاں مندر کی ایک صورت کھڑی ہو گئی ہے تو لوگ اس کو مندر کے نام سے جانتے ہیں۔ اور اگر اس کو توڑا جاتا ہے تو عوام میں یہ شور ہوگا کہ گاؤں کا ایک مندر توڑ دیا گیا۔ اس سے دونوں فرقوں میں نفرتیں پیدا ہوں گی اور مسئلہ پھر بھی نئی صورت میں باقی رہے گا۔ اس لئے اب ایسا کیا جائے کہ ہندو لوگ اپنا مندر تو وہیں پورا کرلیں۔ البتہ اس کے بجائے مالک زمین کو ایک اور جگہ اس کے معاوضہ میں دے دی جائے۔ اس پر سب لوگ متفق ہوگئے۔ مسلمان مالک کو دوسری زیادہ بہتر زمین اس کے معاوضہ میں دے دی گئی۔ مندر وہیں قائم رہا۔ مگر اس فیصلہ کا زبردست فائدہ یہ ہوا کہ مذکورہ ہندوؤں کے سر شرم سے جھک گئے۔ اور مسلمانوں کو مستقل طور پر اخلاقی برتری حاصل ہوگئی۔ میں اپنے سر پر سفید پگڑی باندھتا ہوں۔ اس کے اندر ٹوپی نہیں ہوتی۔ ایک بزرگ نے اس کو دیکھ کر کہا کہ آپ کا عمامہ سنت کے مطابق نہیں۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ اس طرح عمامہ باندھتے تھے کہ اس کے اندر ٹوپی ہوتی تھی اور آپ کے عمامہ کے نیچے ٹوپی نہیں۔ میں نے کہا کہ اس طرح کے معاملات میں ہمیشہ سنت اجمالی مطلوب ہوتی ہے نہ کہ سنت کلی۔ اور یہ عین فطرت کا تقاضا ہے۔ اس طرح کے معاملات میں اگر کامل پیروی کو ضروری قرار دیا جائے تو جو لوگ ٹوپی