ہما چل پردیش کا سفر
الرسالہ، مئی ۱۹۹۹، صفحہ ۲۶
کے اوپر عمامہ باندھتے ہیں ان کا عمامہ بھی مسنون عمامہ نہیں رہے گا۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے عمامہ کا کپڑا ہاتھ کا بنا ہوا ہوتا تھا، جب کہ آج کل کے لوگوں کی ٹوپی اور عمامہ دونوں مل کے کپڑے سے تیار کئے جاتے ہیں۔
مدرسہ کے ایک استاذ مولانا انصار الحق مظاہری نے بتایا کہ جب وہ چودہ سال کے طالب علم تھے، مدرسہ کی رسید لے کر وہ چندہ وصول کرنے گئے۔ ایک حکیم صاحب کے یہاں پہنچے جو باقاعدہ عالم بھی تھے۔ انہوں نے بہت سخت انداز اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں کسی مدرسہ والے کو چندہ نہیں دیتا۔ انصار الحق صاحب نے پوچھا کہ کیوں۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ کچھ نہیں جانتے۔ انہوں نے دوبارہ پوچھا کہ کیا آپ نے تجربہ کیا ہے یا قیاسی طور پر ایسا کہہ رہے ہیں۔ حکیم صاحب نے اقرار کیا کہ انہوں نے اس سلسلہ میں کوئی ذاتی تجربہ نہیں کیا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی الماری سے الجاحظ کی کتاب "اَلْحَيَوَان" نکالی۔ یہ غیر معرب تھی۔ انہوں نہ کہا کہ اس کتاب کو آپ نے دیکھا ہے۔ انصار الحق صاحب جو اس وقت کم عمر تھے، انہوں نے کہا کہ آپ نے یہ کیوں کہا کہ دیکھا ہے۔ آپ کو یہ پوچھنا چاہئے کہ کیا اس کو پڑھا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ اچھا بتائیے، کیا آپ نے اس کو پڑھا ہے۔ انصار الحق صاحب نے کہا کہ میں نے اس کو پانچ بار پڑھا ہے۔ اور پھر اس غیر معرب نسخہ کو روانی کے ساتھ پڑھ کر سنانے لگے۔
اس طرح کے کتنے ذہین نوجوان ہمارے مدارس سے پڑھ کر نکلتے ہیں۔ مگر دور جدید کی زبان نہ جاننے کی وجہ سے وہ سماج میں کوئی بڑا کارنامہ انجام نہیں دے پاتے۔ یہ لوگ اگر دینی تعلیم کے ساتھ انگریزی زبان بھی سیکھ لیں تو ان کی صلاحیتیں قوم کے لئے کئی گنا زیادہ مفید بن جائیں گی۔
موجودہ زمانہ میں اسلام کی ضرورتوں میں سے ایک اہم ضرورت یہ ہے کہ ہمارے درمیان بڑی تعداد میں ایسے اہل علم ہوں جو بیک وقت عربی اور انگریزی دونوں زبانوں میں اسلام