Al-Risala · May 1999 · page 27

ہما چل پردیش کا سفر

الرسالہ، مئی ۱۹۹۹، صفحہ ۲۷

کی ترجمانی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ مگر ایسے افراد اتنے کم ہیں کہ وہ الشاذ کالمعدوم کے درجہ میں رکھے جانے کے قابل ہیں۔

میں نے مدرسہ قادریہ کے ذمہ داروں کے سامنے یہ تجویز رکھی کہ آپ لوگ اپنے موجودہ نصاب کو چلاتے ہوئے ایک نئے کلاس کا اضافہ کریں۔ اس کو آپ لینگوئج کلاس یا لینگوئج کورس کہہ سکتے ہیں۔ اس میں صرف فارغ التحصیل افراد کو لیا جائے۔ عربی مدارس کے فارغین کو انگریزی زبان پڑھائی جائے اور انگریزی ادارہ کے تعلیم یافتہ افراد کو عربی زبان سکھائی جائے۔ فی الحال اس کی تعداد صرف دس ہو۔ پانچ عربی داں اور پانچ انگریزی داں ۔ ان کو پڑھانے کے لئے دو معلم مقرر کئے جائیں۔ ایک عربی معلم اور ایک انگریزی معلم۔ مدرسہ کے ذمہ داروں نے اس تجویز سے اتفاق کیا۔ تاہم اس سلسلہ میں کچھ لوگوں کے تعاون کی ضرورت ہوگی۔ مزید تعاون کے بغیر شاید مدرسہ اس کام کو بحسن و خوبی انجام نہ دے سکے۔ اس سلسلہ میں جو لوگ شرکت یا تعاون کرنا چاہتے ہوں وہ ذیل کے پتہ پر خط و کتابت کریں :

Maulana Kabiruddin Faran Mazahiri, Nazim, Madrasa Quadria, Missarwala, Distt. Sirmour, Pin 173021, Tel. 01704-55126, Fax : 01704-55286 ایک صاحب نے کہا کہ آخر کیا بات ہے کہ غیر مسلموں میں آپ کی بہت پذیرائی ہو رہی ہے، ہندوؤں اور عیسائیوں کے جلسوں میں خطاب کرنے کے لئے آپ بار بار بلائے جاتے ہیں، دور جدید میں یہ پہلا واقعہ ہے جو کسی مسلمان عالم کے ساتھ پیش آرہا ہے۔ آپ کے سوا کسی اور عالم کے ساتھ کبھی ایسا نہیں ہوا۔

میں نے کہا کہ یہ صرف اسلوب کے فرق کا معاملہ ہے، اصل یہ ہے کہ دوسرے عالم اور رہنما اسلام کو دفاعی نقطہ نظر سے پیش کرتے ہیں۔ جب کہ میں اسلام کو دعوتي اعتبار سے پیش کرتا ہوں ۔ انہوں نے دوسری قوموں کو اسلام کا دشمن سمجھ لیا۔ اس بنا پر ان کی تقریروں میں

‹ Previous page Next page › Contents of May 1999 All issues

Printed page