Al-Risala · May 1999 · page 28

ہما چل پردیش کا سفر

الرسالہ، مئی ۱۹۹۹، صفحہ ۲۸

مناظرانہ اور حریفانہ رنگ آگیا۔ میرا معاملہ یہ ہے کہ میں کسی کو بھی اسلام کا دشمن نہیں سمجھتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اسلام دین فطرت ہے اس بنا پر اسلام ہر انسان کا اپنا مطلوب دین ہے۔ میری اس سوچ کی بنا پر میری تقریر میں مذمت کے بجائے محبت ہوتی ہے۔ اس میں اظہار فخر نہیں ہوتا۔ اس میں مناظرہ بازی نہیں ہوتی۔ وہ فطرت کو جگاتی ہے اور ان کے سامنے خدا کے دین کا مثبت تعارف پیش کرتی ہے۔ میں ہندو یا عیسائی کے مقابلہ میں مسلمان کا کیس پیش نہیں کرتا۔ بلکہ سب کو خدا کا بندہ مان کر ان کے سامنے خدا کی بات پیش کرتا ہوں۔ اسلوب کا یہی فرق ہے جس نے ان کی نظر میں میری بات کو پسندیدہ بنا دیا ہے۔

ہما چل پردیش کے مختلف حصوں کا سفر کرتے ہوئے میں نے پایا کہ یہاں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان وہ نفرت اور تعصب نہیں ہے جو دہلی اور یوپی کے لوگوں میں پایا جاتا ہے۔ دونوں خطوں میں اس اعتبار سے واضح فرق ہے۔ اس پر غور کرتے ہوئے میری سمجھ میں آیا کہ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ دہلی اور یوپی کا علاقہ عرصہ دراز تک سیاسی لوگوں کا مرکز رہا ہے اور آج بھی ہے۔ اس طرح اس علاقہ کے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان کشیدگی کا ماحول قائم ہو گیا۔ اس کے برعکس ہماچل پردیش کا علاقہ کبھی بھی اس قسم کی فرقہ وارانہ سیاست کا مرکز نہیں رہا۔ اسی فرق نے دونوں خطوں کے درمیان وہ فرق پیدا کر رکھا ہے جس کو آج ہم دیکھ رہے ہیں۔ انسانی سرگرمیوں کو اگر دو قسم میں بانٹا جائے تو یہ کہنا صحیح ہو گا کہ سیاسی سرگرمیاں باہمی نفرت پیدا کرتی ہیں اور تعمیری سرگرمیاں باہمی محبت۔

مدرسہ میں ایک مسلمان بڑھئی کام کر رہے تھے ان کا نام محمد حنیف ہے۔ اس وقت یہاں مسجد میں ماربل لگانے کا کام بھی ہو رہا تھا۔ مذکورہ بڑھئی نے کئی روز ماربل کے مستریوں کو دیکھا۔ انھیں ان کا کام اچھا نہیں لگا۔ اگر چہ خود انھوں نے کبھی ماربل کا کام نہیں کیا تھا اور نہ اس کو کہیں سیکھا تھا۔ تا ہم اپنے اندرونی جذبہ کے تحت انہوں نے مدرسہ کے ذمہ داروں سے کہا کہ ماربل لگانے کا کام آپ مجھے دے دیں، میں اس کو کروں گا۔ چنانچہ یہ کام انہیں دے دیا گیا۔ اس کے بعد

‹ Previous page Next page › Contents of May 1999 All issues

Printed page