لیک بعد از خرابیِ بسیار آنچہ دانا کند کند ناداں
الرسالہ، مئی ۱۹۹۹، صفحہ ۲۹
انہوں نے ماربل لگانے کا کام شروع کیا اور مستریوں سے کہیں زیادہ اچھا لگایا۔ میں نے بعد میں چاروں طرف دیکھا۔ میں سمجھتا تھا کہ یہ کام کسی ماہر کاریگر نے کیا ہے۔ مگر بعد کو معلوم ہوا کہ یہ ایک نئے آدمی نے انجام دیا ہے۔
مسلمان آج کل ہر جگہ کاریگری کے کام میں آگے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو تعلیم حاصل نہیں کر سکے۔ تعلیمی پس ماندگی نے ان کے اندر نیا جوش پیدا کیا۔ وہ سرگرمی کے ساتھ کاریگری کے کام میں لگ گئے جس میں تعلیم کی ضرورت نہ تھی۔ یہ قدرت کا نظام ہے۔ آدمی اگر ایک میدان میں ناکام رہے، تو وہ دوسرے میدان میں اپنی جگہ بنا لیتا ہے۔ ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے کہا کہ پہلے تو لوگ آپ کی چیزیں بہت شوق کے ساتھ پڑھتے تھے۔ مگر جب آپ نے کہا کہ مسلمان بابری مسجد ہندوؤں کے حوالے کر دیں تو لوگ آپ کے خلاف ہو گئے۔ میں نے کہا کہ یہ تو ایک لغو بات ہے۔ میں نے کبھی ایسا نہیں کہا۔ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کے بعد میں نے صرف یہ کہا تھا کہ مسلمان اب اس اشو پر عملاً خاموشی اختیار کر لیں۔ اور آپ دیکھئے تو تمام کے تمام مسلمان، خواہ اصاغر ہوں یا اکابر، سب اس اشو پر خاموشی کا رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں ۔ گویا اس معاملہ میں فارسی شعر کا معاملہ ہے کہ :
لیک بعد از خرابیِ بسیار آنچہ دانا کند کند ناداں
۶ دسمبر کے بعد مسلم رہنماؤں نے یہ مانگ شروع کر دی کہ ”مسجد دوبارہ وہیں بناؤ“ جب کسی نے ان کی بات پر دھیان نہیں دیا تو اب وہ خاموش ہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک تاجر کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد اس کا لڑکا اس کی جگہ مالک بنا۔ ایک ملازم نے جوش کے انداز میں لڑکے سے کہا کہ ”میری تنخواہ بڑھائیے ورنہ...“ لڑکے نے اس کی طرف گھور کر دیکھا اور کہا: ”ورنہ تم کیا کروگے“۔ اب ملازم دھیمی آواز میں بولا: ”اسی تنخواہ پر کام کریں گے“۔
یہی معاملہ ان نام نہاد رہنماؤں کا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسجد وہیں بناؤ ورنہ ... جب ذمہ داروں نے انہیں نظر انداز کر دیا تو اب وہ بزبان حال کہہ رہے ہیں ”پھر ہم بھی خاموشی اختیار