لیک بعد از خرابیِ بسیار آنچہ دانا کند کند ناداں
الرسالہ، مئی ۱۹۹۹، صفحہ ۳۰
کر لیں گے“۔
۱۸ نومبر کی سہ پہر کو مسر والا سے ناہن کے لئے روانگی ہوئی۔ راستہ میں ہارٹی کلچر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ دیکھا۔ اس کا یہاں بہت بڑا فارم ہے۔ ایک باغ میں کینو کے خوبصورت پھل لگے ہوئے تھے۔ ہری شاخوں کے درمیان لال رنگ کے پھل فطرت کے حسن کا مظاہرہ کر رہے تھے۔
کینو ایک نیا پھل ہے جو مو سمبی اور سنترے کی قلم تیار کر کے بنایا گیا ہے۔ اس میں رس کی مقدار دونوں ہی سے زیادہ ہوتی ہے۔
اس کے آگے شکتی نگر میں کچھ دیر کے لئے ٹھہرے۔ یہاں ایک افسر مسٹر یعقوب بیگ ہیں۔ ان سے ملنے کے لئے ہم لوگ چند منٹ رکے تو اندر سے مسٹر آر ایس ور مانکل آئے جو بجلی بورڈ میں سپر نٹنڈنگ انجینئر ہیں۔ (01702-22281 .Tel) انہوں نے کہا میں اخباروں میں آپ کے آرٹیکل پڑھتا رہا ہوں، اور میرے پاس ان کی کلپنگ بھی ہے۔ مجھے آپ کی باتیں بہت اچھی لگتی ہیں۔
راستہ میں مولانا کبیر الدین صاحب نے ایک بڑے کام کی بات کہی، انہوں نے کہا کہ: ”اگر ہمیں دین کا کام کرنا ہے تو ہم کو اسٹیج اور مظاہرہ کا طریقہ چھوڑنا ہو گا۔ “ مغرب کی نماز ہم لوگوں نے ناہن میں پڑھی۔ یہاں چار مسجدیں ہیں۔ مسجد کچا تالاب بس اسٹینڈ کے بالکل قریب ہے اور کافی آباد ہے۔ اس مسجد میں نماز مغرب کے بعد جلسہ کا پروگرام رکھا گیا تھا۔
جلسہ سے پہلے کچھ دیر ہم لوگ امام صاحب قاری حسین احمد کے کمرہ میں بیٹھے۔ یہاں صدر انجمن جناب شیخ نثار احمد ایڈوکیٹ بھی آگئے۔ وہ میرے مضامین پڑھتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پالیسی وہی ہے جو آپ بتاتے ہیں۔ یعنی ٹکراؤ سے نہیں بلکہ پیار سے۔ یہ علاقہ ریاست سر مور میں شامل تھا۔ ۱۹۴۷ میں یہاں کے راجہ راجندر پر کاش تھے۔