Al-Risala · May 1999 · page 31

لیک بعد از خرابیِ بسیار آنچہ دانا کند کند ناداں

الرسالہ، مئی ۱۹۹۹، صفحہ ۳۱

تمام مسلمان ان کی تعریف کرتے ہیں۔ لوگوں نے بتایا کہ ۱۹۴۷ میں جب ہر طرف فساد پھیل گیا تو راجہ راجندر پر کاش نے مسلمانوں کی حفاظت کے لئے اپنی فوج لگادی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ میں نہیں چاہتا کہ کوئی ایک مسلمان بھی یہاں سے چھوڑ کر جائے۔

ڈاکٹر حشمت علی صاحب بھی کمرہ میں آگئے۔ وہ یہاں مسلمانوں کو تعلیم میں آگے بڑھانے کے لئے کافی کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے ایک بات یہ بتائی کہ ناہن میں دینی کام سب کا سب مقامی چندہ سے ہو تا رہا ہے۔ یہاں کا آدمی کبھی بھی باہر چندہ مانگنے کے لئے نہیں گیا۔ حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا: "ناہن کے مسلمانوں میں جو اجتماعیت ہے وہ بہت کم کسی شہر میں دکھائی دے گی۔ "

۱۸ نومبر کی شام کو مغرب اور عشاء کے درمیان تقریر کا پروگرام تھا۔ یہ پروگرام مسجد کے اندر رکھا گیا تھا۔ زیادہ تعداد مسلمانوں کی تھی۔ لیکن شہر کے معروف ہندو بھی قابلِ لحاظ تعداد میں موجود تھے۔ مہاراجہ سر مور کی بہو انجنا سنگھ بھی شریک تھیں۔ مسٹر آرایس ورما (سپرنٹنڈنگ انجینئر) اور دوسرے کئی اعلی تعلیم یافتہ ہندو آئے۔ سب نے کہا کہ ہم آپ کے آرٹیکل اخباروں میں پڑھتے تھے۔ اور ہم کو آپ کی باتیں بہت اچھی لگتی ہیں۔ R.S. Verma, S.E. (Gen.) Nahan, (H.P.) Pin- 173001 Tel. 2281 (R) 2282 (O), 2437 (O) STD Code- 01702 ناہن سے رات ہی کو ہم لوگ مسروالا کے مدرسہ میں واپس آگئے۔ یہ مدرسہ بستی سے کچھ باہر واقع ہے۔ ۱۹ نومبر کو میں نے مدرسہ کی مسجد میں فجر کی نماز پڑھی۔ نماز کے فوراً بعد بستی کے ایک صاحب ملے۔ انہوں نے بستی آکر یہاں کی مسجد میں فجر کی نماز پڑھی تھی۔ انہوں نے کہا کہ بستی میں لوگ منتظر ہیں کہ آپ وہاں چل کر انہیں کچھ دین کی باتیں بتائیں۔ فجر کی نماز مدرسہ میں اول وقت غلس میں ہوتی ہے۔ اور بستی کی مسجد میں دیر کے بعد اسفار میں۔ اس طرح ہم لوگوں کے لئے یہ ممکن ہو گیا کہ مدرسہ میں نماز ادا کرنے کے بعد وقت پر بستی کی نماز میں پہنچ

‹ Previous page Next page › Contents of May 1999 All issues

Printed page