Al-Risala · May 1999 · page 32

لیک بعد از خرابیِ بسیار آنچہ دانا کند کند ناداں

الرسالہ، مئی ۱۹۹۹، صفحہ ۳۲

سکیں۔

نماز کے بعد مستری یوسف صاحب کے اصرار پر ان کے گھر پر صبح کی چائے پی گئی۔ یہاں بستی کے کچھ لوگ جمع ہوگئے۔ ان سے مختصر گفتگو ہوئی۔ واپسی کے بعد صبح 9 بجے میری قیام گاہ پر ۔ مدرسہ کے اساتذہ اور کچھ دوسرے افراد اکٹھا ہوئے۔ ان کے سامنے علم دین کے موضوع پر گفتگو ہوئی۔ اس سلسلہ میں میں نے مختلف علمی واقعات ماضی اور حال کے سنائے۔ جس میں ہر ایک کے لئے سبق تھا۔

مدرسہ قادریہ اور اطراف کی مسجدوں کی تعمیر میں خاص طور پر جناب حاجی موسی بٹلہ صاحب اور جناب ایف ڈی ریاض الدین وغیرہ کا خصوصی حصہ رہا ہے۔ اس علاقہ کی مسجدیں اور مدرسے ایک زندہ علامت کے طور پر بتا رہے ہیں کہ اہل مال کھلے دل کے ساتھ اہل دین کا تعاون کر رہے ہیں۔ اہل مال اور اہل دین کا یہ اشتراک بلاشبہ ملت کا قیمتی سرمایہ ہے۔ مہمان خانہ کے جس کمرہ میں یہاں میں ٹھہرا تھا، اس کے اندر ایک بڑی الماری تھی جس میں بہت سی کتابیں رکھی ہوئی تھیں۔ انہیں میں سے ایک کتاب مصنف ابن ابی شیبہ (م ۲۳۵ھ) کا مکمل سٹ تھا جو ۱۹۸۶ء میں کراچی سے تصحیح کے بعد شائع کیا گیا ہے۔ اس کے مختلف حصوں کو دیکھا۔ اس میں زیادہ تر احکام ومسائل والی روایات ہیں۔ الجزء العاشر میں فضائل القرآن کے باب میں ایک روایت میں بتایا گیا تھا کہ صحابہ و تابعین کے زمانہ میں یہ کہنا اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا کہ میں نے پورا قرآن پڑھ لیا ( قرأت القرآن كله) حدیث نمبر ۱۰۱۴۱ میں یہ روایت ہے کہ ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے کہا کہ میں نے پورے قرآن کو پڑھ لیا۔ انھوں نے فرمایا کہ تم نے اس میں سے حاصل کیا کیا ( قال رجل قرأت القرآن كله . قال عبدالله بن عمر : وما ادرکت منه )

دور اول میں لوگوں کی توجہ اس پر ہوتی تھی کہ انہوں نے قرآن کے کسی حصہ کو پڑھا تو اس سے کیا حاصل کیا۔ اب ساری توجہ اس پر ہوتی ہے کہ انہوں نے قرآن کو کتنی بار ختم کیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1999 All issues

Printed page