Al-Risala · May 1999 · page 33

لیک بعد از خرابیِ بسیار آنچہ دانا کند کند ناداں

الرسالہ، مئی ۱۹۹۹، صفحہ ۳۳

پہلے قرآن کے معنوی پہلو پر زور دیا جاتا تھا، اب اس کے الفاظ ہی کو کافی سمجھ لیا گیا ہے۔ دور اول کے مقابلہ میں موجودہ دور میں جو فرق ہے وہ اصل میں یہی ہے۔

۱۹ نومبر کو فجر کی نماز میں ایک بوڑھے مسلمان حاجی محمد رمضان بھی موجود تھے۔ وہ فتح پور کے رہنے والے تھے جو یہاں سے ڈھائی کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے۔ ان کے یہاں مسجد نہیں تھی۔ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ سے پہلے یہاں کی فضا خراب ہوئی، اسی زمانہ میں مسلمانوں میں شوق ہوا اور انہوں نے یہاں ایک مسجد کی بنیاد ڈال دی۔

مسجد کی تعمیر شروع ہوئی تو مقامی ہندو رکاوٹ ڈالنے لگے۔ ہندوؤں کی رکاوٹ سے وہاں کشیدگی کا ماحول پیدا ہو گیا، جب حالات زیادہ خراب ہو گئے تو وہاں پولیس افسر اور ایس۔ ڈی ایم سٹی جے ۔سی۔ چوہان (موجودہ اے ڈی ایم شملہ) تھے۔

پولیس آئی تو مسلمان چپ رہے۔ مگر ہندوؤں نے جوش دکھایا۔ گاؤں کے ہندو چودھری کا لڑکا بھی وہاں آگیا۔ وہ اس وقت شراب پئے ہوئے تھا۔ وہ چیخ چیخ کر کہنے لگا کہ یہاں کبھی مسجد نہیں تھی۔ اس لئے یہاں ہم ہرگز مسجد بننے نہیں دیں گے۔ اس کی اس زیادتی پر پولیس افسر اور ایس ڈی ایم کو غصہ آگیا۔ اس نے کہا ”اس وقت تو میں میٹھی گولی دے رہا ہوں۔ میرے پاس کڑوی گولی بھی ہے“ اس نے باقاعدہ مسلمانوں کی حمایت شروع کر دی۔ اس نے کہا کہ وہ لوگ اپنی زمین پر اپنے پیسہ سے مسجد بنا رہے ہیں تو تم کو کیا مصیبت پیش آ رہی ہے۔ خلاصہ یہ کہ پولیس مسلمانوں کی حمایت پر کھڑی ہو گئی۔ یہاں تک کہ مسجد مکمل ہو گئی۔ اب وہاں پنج وقتہ نماز قائم ہے۔ حاجی محمد رمضان صاحب (۶۵ سال) اس مسجد کے امام ہیں۔

۱۹ نومبر کو مسر والاسے سہارن پور کے لئے روانگی ہوئی۔ راستہ میں پونٹا آیا۔ وہاں ہم لوگ کچھ دیر کے لئے مسٹر اشوک کمار شرما کے مکان پر ٹھہرے۔ یہیں پر پنجاب کیسری کے نمائندہ ڈاکٹر برجیندر کمار آگئے۔ انھوں نے اپنے اخبار کے لئے انٹرویو لیا۔ پنجاب کیسری اس وقت پورے ہندوستان میں سب سے زیادہ کثیر الاشاعت اخبار ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1999 All issues

Printed page