لیک بعد از خرابیِ بسیار آنچہ دانا کند کند ناداں
الرسالہ، مئی ۱۹۹۹، صفحہ ۳۴
انہوں نے ایک سوال یہ کیا کہ مذہب زیادہ بڑا ہے یا انسانیت۔ میں نے کہا کہ اس قسم کا تقابل فٹ اور میٹر میں کیا جا سکتا ہے۔ مگر کئی چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن میں اس قسم کا تقابل درست نہیں۔ مثلاً کوئی آپ سے پوچھے کہ آپ کی ماتازیادہ قابلِ عزت ہیں یا آپ کے پتا۔ تو آپ کہیں گے کہ میرے لئے تو ماتا اور پتا دونوں یکساں طور پر قابلِ عزت ہیں۔ یہی معاملہ مذہب اور انسانیت کا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان دونوں ہی کی اہمیت ہے۔ اور جہاں تک مذہب کا تعلق ہے، تو سچے مذہب میں انسانیت اپنے آپ شامل ہوتی ہے۔ مولا نا ممتاز احمد قاسمی نے بتایا کہ ۱۹۸۴ میں کشمیر میں نوجوانوں نے مندر جلا دیا تھا۔ اس پر شملہ کے ہندو پھر گئے۔ انہوں نے جلسہ کیا اس میں اس قسم کی تقریریں کیں کہ شملہ کی ایک ایک مسجد کو ہم جلا دیں گے۔ کوئی مسجد یہاں دکھائی نہیں دے گی ۔
اس وقت شملہ کا ڈپٹی کمشنر آف پولیس مہندر لال تھا۔ وہ ہندوؤں کے یہاں گیا۔ اس نے کہا کہ اگر تم شملہ کی مسجدوں یا یہاں کے مسلمانوں کے گھروں کو جلانا چاہتے ہو تو شوق سے جلاؤ۔ تم جتنا مانگو، تیل اور پٹرول تم کو دینے کے لئے میں تیار ہوں، مگر ایک بات سن لو۔ آگ جب بھڑ کے گی تو وہ ہندو اور مسلمان نہیں دیکھے گی۔ وہ مسلمانوں کے گھروں کے ساتھ تمہارے گھروں کو بھی جلائے گی۔ اس وقت تم فائر بریگیڈ مانگو گے تو میں ایک بھی فائر بریگیڈ نہیں دوں گا۔ اس کے بعد وہ ٹھنڈے ہو گئے اور شملہ میں کوئی جوابی فساد نہیں ہوا۔
پونٹا صاحب سے آگے بڑھے تو میلوں تک ہمارا سفر اس علاقہ سے ہوا جس کو دون وادی (Doon Valley) کہا جاتا ہے۔ سڑک کے دونوں طرف نہایت پر کشش قدرتی مناظر تھے۔ سبز پوش پہاڑوں کی بلندی، رواں دواں نہر، دور تک نشیب و فراز میں پھیلی ہوئی ہریالی، اس کے اوپر نیلا آسمان، قدرتی حسن کے اس ماحول نے ہمارے سفر کو ایک رومانی سفر بنا دیا۔ تاہم اسی کے ساتھ ایک تلخ احساس میرا پیچھا کر تا رہا۔ یورپ اور امریکہ میں میں نے اس قسم کے زمینی خطے بار بار دیکھے ہیں۔ وہاں کا حال یہ ہے کہ انسانی منصوبہ بندی نے اس کو ڈیولپ کر