Al-Risala · May 1999 · page 35

لیک بعد از خرابیِ بسیار آنچہ دانا کند کند ناداں

الرسالہ، مئی ۱۹۹۹، صفحہ ۳۵

کے اس کے حسن کو دوبالا کر دیا ہے۔ اسی کے ساتھ ان کے درمیان جو سڑکیں اور، راستے بنائے گئے ہیں وہ نہایت عمدہ ہیں۔ جب کہ یہاں یہ حال تھا کہ نا ہموار اور جگہ جگہ سے ٹوٹی ہوئی سڑکیں، اسی کے ساتھ حسن کاری کا شدید فقدان۔ انسان کی نسبت سے سہولتوں کی عدم موجودگی، وغیرہ۔

سہارن پور آتے ہوئے ایک بار ایک ٹرک سامنے آگیا۔ ہمارے ڈرائیور نے بار بار ہارن دیا مگر وہ سائیڈ نہیں دے رہا تھا۔ آخر کار ہمارے ڈرائیور نے گاڑی کو سڑک سے نیچے اتار کر اس کو آگے بڑھایا۔

میں سمجھا کہ ٹرک ڈرائیور شاید پئے ہوئے تھا یا وہ سرکشی کی بنا پر سائیڈ نہیں دے رہا تھا۔ پھر میں نے اپنے ڈرائیور سے پوچھا کہ وہ آخر سائیڈ کیوں نہیں دے رہا تھا۔ ڈرائیور نے کہا کہ اصل یہ ہے کہ اس کا سائلنسر نکلا ہوا تھا۔ اس کا اپنا ٹرک اتنا زیادہ شور کر رہا تھا کہ وہ ہمارے ہارن کی آواز نہ سن سکا۔ میں نے پوچھا کہ آپ نے کیسے جانا۔ ڈرائیور نے کہا کہ ٹرک کی آواز سے۔ یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آدمی کس طرح غلط استنباط کرتا ہے اور کسی کے بارہ میں ایک ایسی رائے قائم کر لیتا ہے جو بالکل بے بنیاد ہوتی ہے۔ مولانا انصار الحق مظاہری یہاں کے ایک لائق استاذ ہیں انہوں نے کہا کہ ۱۹۴۷ سے پہلے ہمارے اکابر نے یہ فتویٰ دیا تھا کہ ہندوستان دارالحرب ہو چکا ہے۔ اور اس کی وجہ یہ بتائی تھی کہ یہاں اسلامی شعائر کی بے حرمتی ہو رہی ہے۔ مسلمانوں کو مذہبی آزادی حاصل نہیں ہے۔ ۱۹۴۷ کے بعد جو دور آیا اس میں شعائر کی بے حرمتی پہلے سے زیادہ بڑھ گئی اور مذہبی آزادی میں پہلے سے زیادہ رخنے ڈالے جانے لگے۔ مگر اب ہمارے علماء اس ملک کے دارالحرب ہونے کا فتویٰ نہیں دے رہے ہیں۔ آخر یہ تضاد کیوں؟

یہ سوال قابل غور ہے۔ اگر ۱۹۴۷ سے پہلے کانپور کی مسجد کا صرف غسل خانہ توڑے جانے سے ہندوستان دارالحرب بن سکتا تھا تو آج وہ شدید تر معنوں میں دارالحرب قرار پائے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1999 All issues

Printed page