لیک بعد از خرابیِ بسیار آنچہ دانا کند کند ناداں
الرسالہ، مئی ۱۹۹۹، صفحہ ۳۶
کیوں کہ آج پوری مسجد توڑ کر اس کو مٹا دیا گیا ہے۔
اس تضاد کی وجہ یہ ہے کہ ۱۹۴۷ سے پہلے ہندوستان کو دار الحرب قرار دینے کا جو فتویٰ دیا گیا وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک سیاسی فتویٰ تھا۔ نہ کہ کوئی دینی فتویٰ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ثنائیت (dichotomy) بجائے خود درست نہیں۔ اس فقہی تقسیم کے مطابق، جو ملک دار الاسلام نہ ہو وہ دار الحرب قرار پاتا ہے۔ حالانکہ ” دار “ کی اور بھی قسمیں ہو سکتی ہیں۔ دار الدعوة اور دار الامن، وغیرہ۔
میرے نزدیک ہندوستان نہ ۱۹۴۷ سے پہلے دار الحرب تھا اور نہ وہ ۱۹۴۷ کے بعد دار الحرب ہے۔ اس قسم کی دوگونہ تقسیم قرآن وحدیث میں موجود نہیں۔ وہ عباسی دور کے بعض فقہاء نے زمانی حالات کی بناء پر بنائی تھی۔ اس تقسیم کو شریعت کی طرح ابدی قرار دینا ہر گز درست نہیں۔
شام کو ہم لوگ رائے پور پہنچے۔ یہاں کچھ دیر مدرسہ فیض ہدایت رحیمی میں ٹھہرے۔ عصر کی نماز بھی اسی مدرسہ کی مسجد میں پڑھی گئی۔ مدرسہ کے مہمان خانہ میں اساتذہ جمع ہو گئے۔ ان کے سامنے بعض موضوعات پر اظہار خیال کیا گیا۔ ایک صاحب نے کہا کہ مدارس کے لئے آپ کا مشورہ کیا ہے۔ میں نے کہا کہ مدارس خدا کے فضل سے بہت اہم کام انجام دے رہے ہیں۔ وہ ملت کے خیمہ کے لئے کھونٹے کی حیثیت رکھتے ہیں۔
آج کل مدارس کے خلاف جو بد گمانیاں پیدا ہو گئی ہیں۔ ان کو دور کرنے کا حل نہ احتجاج ہے اور نہ حکومت کے ذمہ داروں سے مل کر مطالبات کا میمورنڈم پیش کرنا۔ اس کا حل یہ ہے کہ ہم خود کو شش کر کے لوگوں کی غلط فہمیوں کو دور کریں۔ اس کا سب سے طاقتور ذریعہ یہ ہے کہ مدارس قرآن کی آیت واما ما ينفع الناس فيمكث في الارض کا مصداق بنیں۔ اپنے ماحول میں اپنے آپ کو نفع بخش بنائیں اور اس طرح اپنے لئے ایک نئی زندگی کا استحقاق ثابت کریں۔