Al-Risala · May 1999 · page 37

لیک بعد از خرابیِ بسیار آنچہ دانا کند کند ناداں

الرسالہ، مئی ۱۹۹۹، صفحہ ۳۷

ظہر کی نماز کسی قدر تاخیر کے ساتھ بادشاہی باغ کی مسجد میں پڑھی گئی۔ میں نے سوچا کہ سڑک کے کنارے مسجدوں کا ہونا کتنی بڑی نعمت ہے۔ یہاں مسلمان وقفہ وقفہ سے کچھ وقت کے لئے ٹھہرتے ہیں۔ وہ وضو کر کے نماز پڑھتے ہیں۔ سفر کے دوران بار بار وہ ان مسجدوں میں لمحاتی قیام کر کے خدا کی یاد تازہ کرتے ہیں۔ اس طرح وہ اپنے سفر دنیا کو سفر آخرت کا ایک حصہ بنا لیتے ہیں۔

اس کے بعد ہماری گاڑی ایک مقام پر مڑی اب وہ رائے پور جارہی تھی۔ یہ پانچ کلو میٹر کا راستہ اس طرح طے ہوا کہ سڑک کے کنارے بہتی ہوئی نہر، اور پھر دونوں طرف دور تک سر سبز مناظر۔ اس کو دیکھ کر میرے سینہ میں شکر کا بے پناہ جذبہ ابھر آیا۔ میں نے سوچا کہ اس دنیا میں مومن کی سب سے بڑی کمائی یہ ہے کہ وہ شکر خداوندی کا رزق پاسکے۔ دنیا کے کسی خطہ ارض میں جب تک مومن کو شکر الہی کا رزق مل رہا ہے وہ محروم نہیں ہے۔ وہ عظیم سرمایہ کا مالک ہے۔ اس نعمت کے ملتے ہوئے دوسری چیزوں سے محرومی پر واویلا کرنا ایک قسم کی ناشکری ہے جو مومن کے لئے جائز نہیں۔

سہارن پور میں ریلوے اسٹیشن کے پاس ایک مسجد ہے۔ یہاں مغرب کی نماز پڑھی گئی۔ نماز سے فارغ ہو کر اٹھا تو میرے ساتھی مسجد میں نظر نہیں آئے۔ میں حیران تھا کہ وہ لوگ کہاں چلے گئے۔ کچھ دیر کے بعد ایک ساتھی آئے۔ ان سے اصل بات معلوم ہوئی۔

سہارن پور سے مجھے شتابدی اکسپریس کے ذریعہ دہلی کے لئے روانہ ہونا تھا۔ میرے ساتھیوں کا خیال تھا کہ اس کا وقت یہاں سے ساڑھے آٹھ بجے ہے۔ مگر مسجد میں کسی نے بتایا کہ سہارن پور سے اس کا وقت ساڑھے چھ بجے ہے۔ چنانچہ میرے ساتھی تیزی سے چل کر اسٹیشن پہنچے۔ وہاں معلوم ہوا کہ سہارن پور سے اس کا رزرویشن کوٹہ نہیں ہے۔ اس لئے اگر سیٹ ہو تو ٹرین پر ہی ٹکٹ مل سکتا ہے۔ یہ ایک غیر یقینی بات تھی۔ چنانچہ وہ لوگ اسٹیشن کے افسر اعلیٰ سے ملے ۔ یہ مسٹر جو گندر سنگھ تھے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1999 All issues

Printed page