Al-Risala · May 1999 · page 38

لیک بعد از خرابیِ بسیار آنچہ دانا کند کند ناداں

الرسالہ، مئی ۱۹۹۹، صفحہ ۳۸

Mr. Joginder Singh, Station Superintendant Rly. Station, Saharanpur Jn. (Tel. 744853)

مسٹر جو گیندر سنگھ نہایت شریف آدمی بیس اور علمی ذوق رکھتے ہیں۔ انہوں نے ہم لوگوں کو اپنے دفتر میں بٹھایا۔ اس کے بعد انہوں نے ٹیلی فون کر کے اسٹیشن کے ایک صاحب کو ۔ بلایا اور ان سے کہا کہ ’’مولانا صاحب کے لئے ایک ٹکٹ کا انتظام کرو‘‘ وہ آدمی ہمارے ایک ساتھی کو لے کر گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد ٹکٹ مجھے مل چکا تھا۔ مسٹر سنگھ نے مزید یہ کیا کہ وہ اپنے آفس سے اٹھ کر ہم لوگوں کے ساتھ ٹرین تک آئے۔ جب انہیں پورا اطمینان ہو گیا کہ مجھے سیٹ مل چکی ہے، اس کے بعد وہ واپس گئے۔

گفتگو کے دوران مسٹر جو گندر سنگھ نے بہت سی قابل تذکرہ باتیں کیں۔ انہوں نے کہا کہ اب مجھے ریٹائر ہونے میں صرف چھ مہینے باقی ہیں۔ جب میں نے سروس شروع کی تھی تو اس وقت لوگ ایک دوسرے کی عزت کرتے تھے۔ آج یہ حالت ہے کہ ’’کسی کو اچھی بات سکھانے کی کوشش کرو تو وہ سیکھنا نہیں چاہتا۔ ہر آدمی سمجھتا ہے کہ جتنا مجھے آتا ہے اتنا کسی کو نہیں آتا۔ چاہے حقیقت میں وہ کچھ نہ جانتا ہو‘‘۔

شتابدی اکسپریس میں ہر چیز بالکل ہوائی جہاز کے انداز پر بنائی گئی ہے۔ وہ ہندوستان کی نہایت تیز رفتار ٹرین سمجھی جاتی ہے۔ وہ سواسو کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی ہے۔ تاہم میں اس کے اندر اس طرح پر سکون طور پر نہیں لکھ سکتا تھا جس طرح میں ہوائی جہاز کے سفر میں ہمیشہ لکھتا ہوں۔ اس کے وجہ یہ تھی کہ وہ مسلسل اتنی زیادہ ہلتی ہے کہ قلم کو کاغذ پر جمانا مشکل ہو جاتا ہے۔

اصل یہ ہے کہ ہندوستان میں ہر معاملہ میں ترقی یافتہ ملکوں کی نقل کی جارہی ہے، جب کہ ترقی یافتہ ملکوں والی ہیں (base) یہاں موجود نہیں۔ شتابدی اکسپریس اتنی زیادہ اس لئے ہلتی ہے کہ ترقی یافتہ ملکوں جیسی مضبوط پٹریاں یہاں بچھائی نہیں گئی۔ اسی طرح آزادی ہمارے یہاں

‹ Previous page Next page › Contents of May 1999 All issues

Printed page