Al-Risala · May 1999 · page 39

لیک بعد از خرابیِ بسیار آنچہ دانا کند کند ناداں

الرسالہ، مئی ۱۹۹۹، صفحہ ۳۹

انار کی اس لئے بن گئی کہ اس کے لئے سیلف ڈسپلن کی میں موجود نہ تھی۔ جمہوریت ہمارے یہاں اس لئے ناکام ہے کہ ایجو کیشن میں ہمارا ملک ابھی بہت پیچھے ہے، جب کہ ایجو کیشن ہی جمہوریت کی بنیاد ہے، وغیرہ۔

۱۹ نومبر کو ٹرین ٹھیک وقت پر دہلی پہنچی۔ میں اپنی سیٹ سے اٹھ کر کھڑا ہوا تو ایک صاحب میرے قریب آئے۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا آپ ”صوفی نور خان ہیں۔ میں نے کہا نہیں۔ کچھ دیر خاموشی کے بعد انہوں نے میرا نام پوچھا، میں نے انہیں نام بتایا تو وہ بہت خوش ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ آپ کا الرسالہ تو میں پابندی کے ساتھ پڑھتا ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آپ الرسالہ میں حقیقت پسندی کی جو تعلیم دیتے ہیں، اگر میں اسی پر چلتا تو میں ایک بڑے نقصان سے بچ جاتا۔ معلوم ہوا کہ انہوں نے جلد دولت کمانے کے جوش میں اپنی استطاعت سے کہیں زیادہ بڑا ایک صنعتی یونٹ لگا لیا۔ وہ اس کو چلانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ اب وہ قرضوں کے بوجھ کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔

اس کے بعد جب میں اسٹیشن سے گھر کی طرف روانہ ہوا تو شہر کے مختلف مناظر کو دیکھنے کے بعد یہ خیال آیا کہ اس کی ذمہ داری تنہا ایک شخص پر نہیں بلکہ پورے مسلم معاشرہ پر ہے۔ موجودہ معاشرہ کا حال یہ ہے کہ اس میں نشو و نما پانے والا ایک شخص کہیں بھی سنجیدگی اور حقیقت پسندی کی تعلیم حاصل نہیں کرتا۔ وہ اس معاشرہ میں جہاں بھی جاتا ہے اس کو ہر جگہ فخر پسندی اور جذباتیت کا سبق دیا جاتا ہے۔ مزید یہ کہ بگڑے ہوئے مزاج کی بنا پر کوئی بھی شخص اس کی ضرورت نہیں سمجھتا کہ وہ دوسرے کو صحیح اور خیر خواہانہ مشورہ دے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر آدمی خود رو پودے کی طرح اگتا ہے۔ صحیح معاشرہ وہ ہے جو افراد کے لئے اس کی زندگی کی تعمیر میں معاون بنے مگر موجودہ مسلم معاشرہ اپنے بگڑے ہوئے مزاج کی بنا پر یہ ذمہ داری ادا نہیں کر پاتا۔ اس کا نتیجہ مختلف شکلوں میں ہر ایک کو بھگتنا پڑتا ہے۔

سفر سے واپسی کے بعد نظام الدین کی کالی مسجد میں نماز کے لئے گیا تو یہاں ایک پوری

‹ Previous page Next page › Contents of May 1999 All issues

Printed page