Al-Risala · May 1999 · page 40

لیک بعد از خرابیِ بسیار آنچہ دانا کند کند ناداں

الرسالہ، مئی ۱۹۹۹، صفحہ ۴۰

تاریخ یاد آگئی۔ یہ مسجد جس کو کالی مسجد یا کلاں مسجد کہا جاتا ہے، آج ایک وسیع اور شاندار مسجد دکھائی دیتی ہے۔ مگر ۱۹۴۷ میں یہ ایک کھنڈر کی صورت میں تھی جس پر کچھ لوگوں نے قبضہ کر لیا تھا۔ میوات کے حافظ عبد الغفور صاحب نے اس کو دوبارہ آباد کرنے کی خاموش کوشش شروع کردی ـــــــــ لمبی جد و جہد کے بعد یہ مسجد دوبارہ مسلمانوں کو مل گئی۔ اس کے بعد حافظ عبد الغفور صاحب کے بھا نجے مولانا محمد ہارون صاحب کی مسلسل کوشش کا مزید نتیجہ یہ ہوا کہ آج یہ مسجد اس علاقہ کی سب سے زیادہ شاندار مسجد کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ حافظ عبد الغفور صاحب ۷۲ سال کی عمر میں دسمبر ۱۹۹۲ء میں وفات پاگئے۔

حافظ عبد الغفور صاحب بظاہر ایک غیر معروف شخص تھے مگر انھوں نے معروف شخصیتوں سے زیادہ بڑا کام کیا۔ ان کی شروع سے یہ کوشش رہی کہ غیر آباد مسجدیں آباد ہوں اور مدارس کا قیام زیادہ سے زیادہ عمل میں آئے۔ انھوں نے اپنی لگن اور جد و جہد سے ۲۲ غیر آباد مسجدیں آباد کرائیں ۔ ۱۵ مدرسے قائم کئے ۔ دہلی میں جو مسجدیں انھوں نے آباد کرائیں ان میں سے چند یہ ہیں: فیروز شاہی جامع مسجد، بستی نظام الدین ۔ جامع مسجد ڈیفنس کالونی، جامع مسجد خیر المنازل بالمقابل چڑیا گھر، مسجد پنج پیراں وغیرہ ۔ اسی طرح مدرسہ زینت القرآن حوض رانی، مدرسہ اشاعت الاسلام (واقع فیروز شاہی جامع مسجد)، مدرسہ تعلیم القرآن جامع مسجد ڈیفنس کالونی، وغیرہ۔

حافظ صاحب نے جب بھی کوئی مسجد آباد کی یا کوئی مدرسہ قائم کیا تو ان مقامات پر اپنا قبضہ جمانے کے بجائے لائق شخصیات کو وہاں متعین کر کے ان کو ان کے حوالے کر دیا، مثلاً خیر المنازل میں مولانا الیاس امینی کو امام متعین کیا۔ اسی طرح ڈیفنس کالونی کی جامع مسجد میں مولانا محمد عیسیٰ کو امام مقرر کیا۔ وہ مدرسہ تعلیم القرآن کے مہتمم اور ناظم بھی ہیں۔ مولانا عیسیٰ نے اپنی محنت سے اس مسجد اور مدرسہ کو کافی وسیع کر لیا ہے۔ وہاں آج ہزاروں کی تعداد میں مسلمان نماز جمعہ وعیدین ادا کرتے ہیں۔ کلاں مسجد بستی نظام الدین میں اپنے بھتیجے مولانا محمد ہارون (موجودہ امام و خطیب

‹ Previous page Next page › Contents of May 1999 All issues

Printed page