لیک بعد از خرابیِ بسیار آنچہ دانا کند کند ناداں
الرسالہ، مئی ۱۹۹۹، صفحہ ۴۱
کو مقر ر کیا۔ حافظ عبد الغفور صاحب اپنے بھتیجے مولانا محمد ہارون کو ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتے اور اس طرح ان کی تربیت کرتے رہتے۔ ابتداء سے ہی کلاں مسجد بستی نظام الدین کا نظم و ضبط مولانا ہارون کے ذمہ رکھا۔ مولانا ہارون صاحب کا کام گویا کہ حافظ صاحب کے خواب کی عملی تعبیر ہے۔ مولانا ہارون آج بھی کلاں مسجد کی تعمیر و توسیع کے سلسلہ کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مسجد کے اندر حافظ صاحب کا قائم کیا ہوا مدرسہ اشاعت الاسلام بھی ترقی کر رہا ہے۔ اس میں بیرونی طلبہ کے قیام و طعام کا معقول انتظام ہے۔ دوسری جگہوں کی نگرانی بھی حافظ صاحب نے انہیں کے سپرد کی۔ تمام مقدمات کی پیروی بھی مولانا ہارون صاحب ہی کرتے رہے۔ مولانا ہارون صاحب کو آخر وقت تک حافظ صاحب کی یہی تاکید تھی کہ مسجد کو کبھی سیاسی اکھاڑہ نہ بننے دینا۔ حافظ صاحب کی عمر کا ایک طویل عرصہ آثار قدیمہ، ڈی ڈی اے ، کارپوریشن، تیس ہزاری کورٹ، دہلی وقف بورڈ اور جمعیۃ علماء کے چکر کاٹنے میں گزرا۔ کیوں کہ انہیں پرامن اور قانونی ذرائع سے انھوں نے یہ کامیابی حاصل کی اور ایک تعمیری جدوجہد کی تاریخ چھوڑی۔ ۱۹۴۷ء کے بعد مسلمانوں میں بہت سے مثبت کام ہوئے ہیں۔ یہ تمام کام زیادہ تر انھیں لوگوں نے کئے ہیں جنھوں نے مسجد اور مدرسہ کو اپنے عمل کا میدان بنایا اور خاموش اور پرامن انداز کو اپنی جدوجہد کے لئے اختیار کیا۔ اس کے بر عکس معاملہ ان لوگوں کا ہے جنھوں نے وہ طریقہ اختیار کیا جس کو عام طور پر سیاسی طریقہ کہا جاتا ہے، ایسے لوگوں نے ملت کو صرف نقصان پہنچایا، وہ ملت کو کوئی بھی مثبت تحفہ نہ دے سکے۔
حافظ عبد الغفور صاحب جیسے بہت سے خاموش دینی خادم ملک میں موجود ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مسجد اور مدرسے کی راہ سے کام کرنے کا طریقہ ہی صحیح اور نتیجہ خیز طریقہ ہے، سیاسی ہنگامہ آرائی صرف شخصی لیڈری ہے نہ کہ واقعی معنوں میں کوئی ملی اور دینی کام۔