Al-Risala · May 1999 · page 42

لیک بعد از خرابیِ بسیار آنچہ دانا کند کند ناداں

الرسالہ، مئی ۱۹۹۹، صفحہ ۴۲

سوال

بیسویں صدی میں ساری دنیا میں اسلام کے نام پر بہت سی تحریکیں اٹھیں۔ ان سب کا نشانہ اسلام کا احیاٴ تھا اور ملتِ اسلامیہ کو دوبارہ سرفرازی کا مقام دلانا تھا۔ مگر پر شور ہنگاموں اور بے پناہ قربانیوں کے باوجود ان تحریکوں کا کوئی حقیقی نتیجہ برآمد نہیں ہو سکا۔ اب بیسویں صدی ختم ہو رہی ہے۔ اکیسویں صدی شروع ہونے والی ہے۔ مگر بظاہر ہمارا کوئی روشن مستقبل دکھائی نہیں دیتا۔ اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے۔

غلام نبی شاہین (سری نگر کشمیر)

جواب

یہ تحریکیں اگر چہ اسلام کے نام پر اٹھیں۔ مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ مثبت اسلامی فکر پر مبنی نہ تھیں بلکہ وہ تقریباً سب کی سب ردِ عمل کی تحریکیں تھیں۔ کوئی انگریز کے ردِ عمل میں، کوئی یہودی کے ردِ عمل میں، کوئی ہندو کے ردِ عمل میں، کوئی کسی مسلم حکمراں کے ردِ عمل میں، کوئی کسی اور ردِ عمل میں۔ ردِ عمل کی تحریک ہمیشہ ایک منفی تحریک ہوتی ہے اور قانونِ فطرت کے تحت کسی منفی تحریک سے کوئی مثبت نتیجہ بر آمد ہونا ممکن نہیں۔ منفی تحریک کا مطلب یہ ہے کہ آدمی جہاں ہے وہیں بھڑک کر وہ اچھل کود شروع کر دے۔ اس کے مقابلہ میں مثبت ردعمل یہ ہے کہ آدمی غیر جذباتی انداز میں سوچے اور پھر ایک منصوبہ کے تحت اپنا عمل وہاں سے شروع کرے جہاں سے باعتبارِ حقیقت اس کو اپنا سفرِ حیات شروع کرنا چاہئے۔ وقت گزرنے کے بعد اب امید کی صرف ایک ہی صورت ہے، اور وہ یہ کہ مسلمانوں میں دوبارہ کوئی حقیقی نوعیت کی مثبت تحریک اٹھے۔ مگر جہاں تک مسلمانوں کی موجودہ نسل کا تعلق ہے، وہ اس قسم کی کسی مثبت تحریک کی حامل نہیں بن سکتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی نئی تحریک کے لئے ہمیشہ نئی سوچ کی ضرورت ہوتی ہے اور مسلمانوں کی موجودہ نسل اس کی اہلیت نہیں رکھتی۔ بیسویں

‹ Previous page Next page › Contents of May 1999 All issues

Printed page