لیک بعد از خرابیِ بسیار آنچہ دانا کند کند ناداں
الرسالہ، مئی ۱۹۹۹، صفحہ ۴۳
صدی کے مسلم رہنماؤں مثلاً سید جمال الدین افغانی، علامہ اقبال، سید قطب، سید ابوالاعلیٰ مودودی، آیت اللہ خمینی وغیرہ کے منفی افکار کے نتیجہ میں موجودہ مسلمانوں کی حالت تقریبا دہ ہو چکی ہے۔ جس کو قرآن میں قلوبنا غلف (البقرہ ۸۸) سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یعنی دلوں کے اوپر غلاف چڑھ جانا۔ حقیقت یہ ہے کہ بیسویں صدی میں مسلمانوں کے اندر جو لکھنے والے اور بولنے والے لوگ اٹھے، انھوں نے اسلام کی غیر حقیقی تشریح کی جس کو پریس اور پلیٹ فارم کے ذریعے اتنا زیادہ پھیلایا گیا کہ موجودہ مسلمانوں کی بیشتر نسل اس سے متاثر ہو کر رہ گئی۔ اب یہ نسل اسی فکری غلبہ (obsession) میں جی رہی ہے۔ اپنے اس بند ذہن سے باہر آکر سوچنا اس کے لئے ممکن نہیں۔ ایسی حالت میں اب جو امید ہے وہ مسلمانوں کی اگلی نسل سے ہے۔ میرا اندازہ یہ ہے کہ بیسویں صدی کے افکار کا تسلسل موجودہ نسل پر ٹوٹ جائے گا اور ہماری اگلی نسل ماضی کی اس فکر سے آزاد ہو کر سوچنے کے قابل ہو جائے گی۔ اس عمل کو فکری علیحدگی کا عمل (De-link Process) کہا جا سکتا ہے۔ یہ عمل جب مکمل ہو گا تو اگلی مسلم نسل نئے ذہن کے تحت سوچنے کے قابل ہو جائے گی۔ بیسویں صدی کے رہنماؤں کے فکر سے آزاد ہو کر براہ راست قرآن و حدیث سے اپنا فکر اخذ کرنے والی یہی نسل اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا مطلوب کام کرے گی۔ یہ عین وہی عمل (Process) ہے جو بنی اسرائیل کے ساتھ صحرائے سینا میں پیش آیا تھا۔ بنی اسرائیل کی مصری نسل جب صحرائے سینا میں ختم ہو گئی اور چالیس سال کے بعد اگلی نسل جوان ہوئی تو اسی نے اسرائیل کو از سرِ نو زندہ کیا۔ میرے نزدیک موجودہ مسلمان دنیا بھر میں اب اسی صحرائی دور کے آخری مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ اکیسویں صدی کا نصف اول انشاء اللہ وہ دور ہوگا جب کہ نئی مسلم نسل اٹھ کر کوئی بڑا اسلامی کارنامہ انجام دے گی۔