Al-Risala · May 1999 · page 44

لیک بعد از خرابیِ بسیار آنچہ دانا کند کند ناداں

الرسالہ، مئی ۱۹۹۹، صفحہ ۴۴

خبر نامہ اسلامی مرکز ۱۴۰

۱۔ راج گھاٹ (نئی دہلی) میں ۵ جنوری ۱۹۹۹ کو ایک جلسہ ہوا۔ اس جلسہ کا انتظام اکھل بھارتیہ رچناتمک سماج کی طرف سے کیا گیا تھا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ اس کا موضوع مذہبی ہم آہنگی تھا۔ صدر اسلامی مرکز نے اس موقع پر قرآن سے سورۃ فاتحہ کی تلاوت کی اور اس کی روشنی میں ایک تقریر کی جس میں اسلام کی تعلیمات کو بتایا گیا۔

۲۔ راماکرشنا مشن، نئی دہلی میں ۱۰ جنوری ۱۹۹۹ کو ایک سمینار ہو ا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ اس موقع پر اپنی تقریر میں انہوں نے کہا کہ ملک کی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ ہندو اور مسلمان دونوں مل کر پیار و محبت کے ساتھ رہنا سیکھیں۔ اتحاد کے بغیر ایک خاندان بھی ترقی نہیں کرتا، پھر پورا ملک کیسے اتحاد کے بغیر ترقی کر سکتا ہے۔ اتحاد کاراز ہے کانٹے کو بھی پھول کے روپ میں دیکھنا۔ ناخوش گواری میں بھی خوشگوار پہلو کو نکال لینا۔

۳۔ ہندی روزنامہ نو جیوتی (اجمیر) کے نمائندہ مسٹر یوسف انصاری نے ۱۱ جنوری ۱۹۹۹ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق ہندوستان کے موجودہ سیاسی حالات سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ ہندوستان کے لئے بظاہر اکیسویں صدی بھی ویسی ہی ہوگی جیسی کے بیسویں صدی۔ اس لئے کہ یہاں کے حقیقی حالات میں ابھی کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ سب سے اہم چیز ایجوکیشن ہے مگر پچاس سال میں پہلی بار پروفیسر امرتیہ سین نے اس بات کو زور دار طریقہ سے کہا کہ ایجوکیشن کو دستور ہند کے بنیادی حقوق میں شامل کرنا چاہئے۔ یہ نہایت درست بات ہے۔ اگرے ۱۹۷۲ ہی میں اس کو اختیار کر لیا گیا ہو تا تو آج ہم ایک نئے ہندوستان کی تعمیر کر چکے ہوتے۔

۴۔ ہندی اخبار راشٹریہ سہارا (نئی دہلی) کی نمائندہ ڈالی ودھوانے ۱۳ جنوری ۱۹۹۹ کو صدر اسلامی

‹ Previous page Next page › Contents of May 1999 All issues

Printed page