Al-Risala · May 1999 · page 45

لیک بعد از خرابیِ بسیار آنچہ دانا کند کند ناداں

الرسالہ، مئی ۱۹۹۹، صفحہ ۴۵

مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر کنورزن کے مسئلہ سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ موجودہ حالات میں کنورزن کے خلاف قانون بنانا ممکن نہیں۔ ایسا قانون دستور ہند اور خود ہندو مذہب کی نفی کے ہم معنی ہوگا۔ اسی کے ساتھ ہندوستان نے اقوام متحدہ کے چارٹر پر دستخط کیا ہے جس میں ہر ایک کو مکمل آزادی کا حق دیا گیا ہے۔ ہندوستان جب تک اس عہد سے بندھا ہوا ہے وہ اینٹی کنورزن قانون نہیں بنا سکتا۔ اینٹی کنورزن منصوبہ سادہ طور پر صرف کنورزن کے خلاف نہیں بلکہ وہ نیچر کے خلاف ہے اور کون ہے جو نیچر کے خلاف پابندی لگانے میں کامیاب ہو۔

۵۔ نیشنل کونسل فار فلاسافیکل ریسرچ، نئی دہلی کے تحت تغلق آباد میں ۱۴ جنوری ۱۹۹۹ کو ایک سیمینار ہوا۔ صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ اس میں مختلف ملکوں کے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ شریک تھے۔ صدر اسلامی مرکز نے یہاں اسلام اینڈ پیس کے موضوع پر انگریزی میں ایک تقریر کی۔

۶۔ اسٹار ٹی وی کی ٹیم نے ۱۵ جنوری ۱۹۹۹ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ انٹروید یور مسٹر راکیش ترپاٹھی تھے۔ ایک سوال سیاسی روزہ افطار کے بارہ میں تھا۔ انھوں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ دنیا مقابلہ کی جگہ ہے۔ یہاں ہر آدمی اپنا فائدہ لینا چاہتا ہے۔ آپ لوگوں کی نیت کو نہ دیکھئے بلکہ یہ دیکھئے کہ جو لوگ افطار کے نام سے وہاں اکٹھا ہوتے ہیں وہ کہیں اور نہیں ملیں گے۔ لہذا اس موقع کو آپ روزہ کے تعارف کا اسٹیج بنا دیجئے ۔ میں نے خود ایسا کئی بار کیا ہے۔ ۷۔ زی ٹی وی کی ٹیم نے ۱۷ جنوری ۱۹۹۹ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ ان کا ایک سوال یہ تھا کہ آج کل پولیٹیکل لوگ افطار کا انتظام کرتے ہیں۔ یہ کھلے طور پر سیاسی افطار ہے۔ کیا اس سے روزہ اور افطار کا تقدس مجروح نہیں ہوتا۔ میں نے کہا کہ اس موقع کو آپ روزہ اور اسلام کے تعارف کا ذریعہ بنائیں۔ اسلام کے بارے میں لوگوں کی غلط فہمیوں کو دور کریں۔ لوگوں کو اسلام کی باتیں بتائیں۔ اسلام کے تعارف پر خوبصورت پمفلٹ چھاپ کر تقسیم

‹ Previous page Next page › Contents of May 1999 All issues

Printed page