لیک بعد از خرابیِ بسیار آنچہ دانا کند کند ناداں
الرسالہ، مئی ۱۹۹۹، صفحہ ۴۶
کریں۔
۸۔ صدر اسلامی مرکز کی ایک تقریر آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی سے ۱۹ جنوری ۱۹۹۹ کو نشر کی گئی۔ اس کا موضوع عید الفطر تھا۔ انہوں نے اپنی تقریر میں بتایا کہ عید الفطر کا تہوار عالمی انسانی قدروں کو فروغ دینے کا تہوار ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کے اندر اعلی اخلاقی اصولوں پر زندگی گزارنے کی تربیت دی جائے۔
۹۔ آریہ سماج بھون (نئی دہلی) میں ۲۴ جنوری ۱۹۹۹ کو ایک جلسہ ہوا۔ اس میں مختلف مذاہب کے نمائندے شریک ہوئے۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ اس کا موضوع سوشل جسٹس تھا۔ انھوں نے اس موضوع پر اسلام کی روشنی میں تقریر کی۔ انھوں نے بتایا کہ اسلام میں دو بنیادی تصور ہے۔ جس پر اسلام کی تمام تعلیمات مبنی ہیں۔ توحید اور عدل۔ اس کو قرآنی آیتوں کی روشنی میں واضح کیا۔ امر بالمعروف نهى عن المنکر کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اسلام کے مطابق آدمی کو چاہئے کہ سماج میں جہاں بے انصافی ہو وہاں پہنچ کر اس کو روکنے کی کوشش کرے۔ ایسا نہ کر سکے تو کھلے طور پر اپنی زبان سے اس کی مذمت کرے۔ یہ بھی نہ کر سکے تو دل سے اس کو غلط سمجھے۔ ۱۰۔ ۲۶ جنوری ۱۹۹۹ کو این ٹی وی (نئی دہلی) نے ایک گروپ انٹرویو ریکارڈ کیا۔ اس میں صدر اسلامی مرکز کے علاوہ سوامی اگنی ویش، فادر والسن تھمپو، ڈاکٹر موھندر سنگھ ، ڈاکٹر مرچنٹ بھی شریک تھے۔ سوالات کا تعلق ملک میں امن وامان کے سوال سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں صدر اسلامی مرکز نے کہا کہ کسی بھی سماج میں اختلافات کا پیدا ہونا لازمی ہے۔ اس لئے خود اختلاف کو مٹایا نہیں جاسکتا۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ اختلاف کے موقع پر ہمیشہ ڈائیلاگ اور پرامن حل کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ کسی بھی حال میں تشدد اور توڑ پھوڑ کا طریقہ اختیار نہ کیا جائے۔
۱۱۔ اسلام پور (مرشد آباد) کے دینی مدرسہ کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے مرشد آباد