خاتمہ حیات
الرسالہ، جون ۱۹۹۹، صفحہ ۱۵
خاتمہ حیات
ایک ایسے انسان کو لیجئے جو ۵۰ سال سے زیادہ عمر پا کر مرا ہو۔ وہ اس وقت اپنی زندگی کے تکمیلی مرحلہ میں ہوتا ہے۔ علم، تجربہ، اور تیاری کے مختلف مراحل سے گزر کر اس وقت وہ ایک پختہ انسان بن چکا ہوتا ہے۔ عین اس وقت موت کا فرشتہ آتا ہے اور اس کو اس طرح صفحۂ ہستی سے مٹا دیتا ہے جیسے کہ وہ باغِ حیات کا ایک غیر مطلوب درخت تھا جس کو بے رحمانہ طور پر کاٹ دیا گیا۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب کہ انسان اس قائل ہو جاتا ہے کہ وہ زیادہ پختہ دماغ سے سوچے ۔ وہ زیادہ معنویت کے ساتھ کائنات کے نغموں کو سنے ، وہ زیادہ لطافت کے ساتھ دنیا کے ذائقوں کو چکھے ۔ اس وقت وہ اس پوزیشن میں ہوتا ہے کہ زیادہ کامیاب کلام کرے۔ زیادہ اعلیٰ نوعیت کی تحریریں تخلیق کر سکے۔ وہ ان تمام کاموں کو زیادہ معیاری سطح پر انجام دے جن کو اپنی نا پختگی کی بنا پر اب تک وہ صرف غیر معیاری انداز میں انجام دے رہا تھا۔
یہی اس دنیا میں ہر انسان کی کہانی ہے۔ یہاں ہر انسان صرف اپنے مرحلہ نشو و نما تک زندہ رہتا ہے۔ اس کے بعد جب وہ اپنی زندگی کے آخری تکمیلی مرحلہ میں پہنچتا ہے تو وہ انتہائی بے بسی کے ساتھ اپنی زندگی کی کہانی کا یہ المناک منظر دیکھتا ہے کہ اس کو اچانک اسٹیج سے ہٹا دیا گیا۔ تاہم زندگی کا یہ انجام صرف اس وقت ایک المیہ ہے جب کہ موت کو زندگی کا خاتمہ سمجھا جائے ۔ مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ موت زندگی کا خاتمہ نہیں بلکہ وہ ایک نئے دورِ حیات کا آغاز ہے۔ اس تصور کے مطابق زندگی کا موجودہ مرحلہ گویا کہ تربیتی مرحلہ ہے اور موت کے بعد کا مرحلہ تربیت یافتہ صلاحیتوں کے استعمال کا مرحلہ ۔ جو لوگ اس حقیقت کو پالیں ان کے لئے موجودہ تربیتی مرحلہ بھی با معنی ہے اور بعد کا مرحلہ بھی با معنی ۔ جب کہ وہ تربیت یافتہ انسان کی حیثیت سے آخرت کے اعلیٰ مواقع کو استعمال کر کے اپنے لئے ایک پر مسرت زندگی کی تعمیر کر سکیں گے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1999 All issues