تقویٰ اور علم
الرسالہ، جون ۱۹۹۹، صفحہ ۱۶
تقویٰ اور علم
قرآن (البقره (۲۸۲) میں آیا ہے کہ اور تم اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور اللہ تم کو سکھاتا ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے (واتقوا الله ويعلمكم الله والله بكل شيء عليم ) القرطبی نے اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے لکھا ہے :
وعد من الله تعالى بأن من اتقاه علّمه ـ اى يجعل فى قلبه نورا يفهم به ما يلقى اليه ـ وقد يجعل الله في قلبه ابتداء فرقانا ای فصلا یفصل به بین الحق والباطل۔ ومنه قوله تعالى : يا ايها الذين آمنوا ان تتقوا الله يجعل لكم فرقانا (الجامع لاحکام القرآن ۴۱۰/۳) یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ جو شخص اللہ سے ڈرتے اللہ اس کو علم دیتا ہے۔ یعنی اس کے دل میں ایسا نور پیدا کر دیتا ہے جس کے ذریعہ وہ باتوں کو سمجھتا ہے۔ کبھی اللہ تعالیٰ ابتداء ہی میں اس کے دل کے اندر فرقان یعنی حق اور باطل کے درمیان فرق کرنے کی صلاحیت پیدا فرمادیتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے ایمان والو، اگر تم اللہ سے ڈرو تو وہ تمہارے لئے فرقان بنادے گا۔
تقویٰ کس طرح علم اور فہم کا ذریعہ بنتا ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ تقویٰ آدمی کے اندر سنجیدگی پیدا کرتا ہے۔ وہ آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ غیر ذمہ دارانہ رائے قائم کرنے سے بچے، وہ اپنی سوچ کو منصفانہ سوچ بنائے۔ اس کی سوچ عین مطابق واقعہ سوچ بن جائے۔ علم صحیح کے لئے صرف معلومات یا درس و مطالعہ کافی نہیں۔ اس کے ساتھ لازمی طور پر ضروری ہے کہ آدمی کے اندر شدید احساس ذمہ داری ہو تاکہ وہ معلومات سے غلط نتیجہ اخذ نہ کرے، تاکہ وہ اپنے ذہن کو حقیقت کے تابع بنائے نہ کہ خود حقیقت کو اپنے ذہن کے تابع بنانے لگے۔ ذمہ داری کا احساس معلومات سے غلط نتیجہ نکالنے میں روک بنتا ہے۔ یہ ذہنی روک اگر آدمی کے اندر موجود نہ ہو تو وہ معلومات کے انبار کے باوجود صحیح رائے قائم کرنے میں ناکام رہے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1999 All issues