خبر کی تحقیق
الرسالہ، جون ۱۹۹۹، صفحہ ۲۲
آپ : هاتو برهانکم ان کنتم صادقین (البقره III) کے قرآنی اصول پر مذکورہ صاحب سے پوچھتے کہ اگر رسالہ سے اس کی کوئی مثال بتائیے تاکہ اس پر غور کیا جاسکے۔ مثال کے بغیر اس طرح کا مخالفانہ ریمارک (adverse remark) دینا بھی غیر اسلامی ہے اور اس کو نقل کرنا بھی غیر اسلامی۔ البخاری اور حدیث کی دوسری کتابوں میں یہ روایت آئی ہے کہ : البينة علی المدعی ۔ اس کے مطابق، آپ کے یا بمبئی والے صاحب کے اوپر یہ لازمی ذمہ داری ہے کہ واضح مثال کے ذریعہ اپنے اس دعویٰ کو ثابت (establish) کریں۔ اس کے بغیر آپ کا یا کسی کا ایسا کہنا صرف ایک الزام ہے۔ اور بے دلیل الزام کو اسلام میں حرام قرار دیا گیا ہے۔
مزید یہ کہ ایگو (ego) خود ایک اضافی لفظ (relative term) ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص شدت تاثر یا یقین (conviction) کے تحت ایک بات کہتا ہے اور سننے والا اس کو برے مفہوم میں ego کا مظہر قرار دے دیتا ہے۔
ایسی حالت میں کسی کے لئے اس قسم کا الزام لگانا ہی درست نہیں۔ یہ نیت سے تعلق رکھنے والی ایک بات ہے۔ اور نیت کا علم صرف خدا کو ہے۔ مثال کے طور پر رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد جب عرب میں ارتداد کا فتنه پھیلا تو خلیفه اول ابو بکر صدیق نے فرمایا: اینقص الدین وانا حی۔ اگر صرف ظاہر الفاظ کے تحت دیکھا جائے تو اس جملہ کے بارے میں بھی خدا انخواستہ عین وہی بات کہی جاسکتی ہے جو بمبئی والے صاحب نے مرتب الرسالہ کے بارے میں فرمائی۔ اصل یہ ہے کہ اس قسم کے کلمات حمایت حق کے شدید جذبہ کے تحت نکلتے ہیں نہ کہ ذاتی بڑائی کے احساس کے تحت۔ جو لوگ اس فرق کو نہیں جانتے وہی اس معاملہ میں شبہات میں پڑ سکتے ہیں۔ ۳۔ آپ کے لئے زیادہ صحیح طریقہ یہ تھا کہ میری چھپی ہوئی تحریروں اور وضاحتوں کو بنیاد بنا کر اظہار رائے فرمائیں مگر عجیب بات ہے کہ آپ نے زیادہ تر زبانی گفتگوں کو اپنے دعووں کی بنیاد بنایا ہے حتی کہ پانچ سال اور دس سال پہلے کی گفتگو تک کو۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ زبانی گفتگو کبھی بھی کوئی معتبر بنیاد نہیں ہوتی۔ کیونکہ ہمیشہ ایسا
‹ Previous page Next page › Contents of June 1999 All issues