خبر کی تحقیق
الرسالہ، جون ۱۹۹۹، صفحہ ۲۳
ہو تا ہے کہ کہنے والا کچھ کہتا ہے اور نقل کرنے والا اس کو کسی اور شکل میں نقل کرتا ہے۔ معاف کیجئے گا آپ بھی اس معاملہ میں استثناء نہیں ہیں جس کا ایک ثبوت خود آپ کا زیر نظر خط ہے۔ مثلاً الرسالہ فروری ۱۹۹۹ (صفحہ ۳۴) میں ایک حدیث کا ترجمہ شائع کیا گیا تھا۔ آپ نے اپنے خط میں اس کا حوالہ دیا ہے۔ اگر آپ اپنے خط کو الرسالہ کے مذکورہ صفحہ سے ملا کر دیکھیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ آپ نے نقل کرنے میں اس کو کچھ کا کچھ کر دیا ہے۔ مثلاً آپ نے اپنے خط میں رسول اللہ کے ایک قول کو اس طرح نقل کیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا ”شبہات سے بچنا اور بچانا چاہئے“۔
الرسالہ کے مذکورہ مضمون میں رسول اللہ کے قول کا ترجمہ ان الفاظ میں دیا گیا تھا ”شیطان آدمی کے اندر خون کی گردش کی طرح دوڑتا ہے“ (صفحہ ۳۴)۔ مگر آپ نے اپنے خط میں (غالباً حافظے سے) اس کے بجائے یہ الفاظ لکھ دئے کہ آپ ﷺ نے کہا کہ ”شبہات سے بچنا اور بچانا چاہئے“۔ آپ جب ایک پڑھی ہوئی بات کو نقل کرنے میں اتنی بڑی بھول کر سکتے ہیں تو ایک سنی ہوئی بات کو نقل کرنے میں یقیناً آپ اس سے کہیں زیادہ بڑی غلطی کریں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ آدمی کے پاس اگر صرف زبانی گفتگو یا سنی ہوئی بات کی دلیل ہو تو اس کو چاہئے کہ وہ چپ رہے نہ کہ ایسی کمزور دلیل پر اپنے دعویٰ کی بنیاد کھڑی کرنے کی کوشش کرے۔
۴۔ ”تصویری فتنہ“ کے بارے میں الرسالہ میں کئی مضامین چھپ چکے ہیں۔ ان مضامین کو پڑھ کر بیشتر قارئین نے اس معاملہ میں مکمل اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ آپ نے الرسالہ میں شائع شدہ دلائل کا کوئی علمی تجزیہ کئے بغیر ان کو بلا ثبوت ناکافی قرار دیا ہے اور یہ فرمایا ہے کہ ”میں سمجھتا ہوں کہ آپ کو واضح انداز میں تردید کرنا ضروری تھا“۔ آپ کی اس بات کا جواب میں نے ۷ اپریل کی ملاقات میں دیا تھا۔ میں نے کہا تھا کہ قرآن کے حکم اور حضرت عائشہ کی نظیر کے مطابق، میری مذکورہ تردید ہی اس معاملہ میں میری کامل براءت کے لئے کافی ہے۔ آپ یا آپ جیسے لوگ جو اس معاملہ میں براہ راست تردید کا مطالبہ کر رہے ہیں ان سے میں ایک
‹ Previous page Next page › Contents of June 1999 All issues