Al-Risala · June 1999 · page 24

خبر کی تحقیق

الرسالہ، جون ۱۹۹۹، صفحہ ۲۴

سوال کروں گا۔ جیسا کہ میں اس سے پہلے الرسلہ مارچ ۱۹۹۹ میں حوالوں کے ساتھ لکھ چکا ہوں۔ آپ کے معیار کے مطابق اس معاملے کی براہ راست اور عریاں تردید نہ حضرت عائشہ صدیقہ نے کی اور نہ خود اللہ تعالیٰ نے۔ قرآن میں اس کی بابت صرف یہ کہا گیا کہ الذین جاءوا بالافک (النور١١) اور اسی پر بات ختم ہو گئی۔ ایسی حالت میں فرمائیں کہ آپ لوگوں کا حضرت عائشہ صدیقہ کی براءت کے بارے میں کیا خیال ہے؟

آپ لوگوں کا یہ کہنا کہ میری تردید کے باوجود یہ مسئلہ ابھی باقی ہے، سراسر ایک غیر اسلامی اور غیر دینی بات ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ کا واقعہ اس معاملے میں ایک مستقل اسلامی نظیر کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس نظیر کے مطابق میں اپنے بارے میں کہتا ہوں کہ یہ سراسر افک ہے۔ پھر آپ لوگ اس سے مطمئن ہو کر کیوں نہیں یہ اعلان کرتے کہ اس معاملہ میں خود آپ حضرات غلطی پر تھے نہ کہ میں۔ گویا کہ یہاں اصل مسئلہ اعتراف تردید کا ہے نہ کہ خود تردید کا۔ ایسی حالت میں برعکس طور پر خود آپ حضرات مسئول قرار پارہے ہیں۔

۵۔ آپ نے میری طرف یہ قول منسوب کیا ہے کہ میں نے کہا کہ ”ایک بدنام اخبار میں میرے بارے میں چھپی ہوئی ایک رپورٹ کو آپ لوگوں نے پھیلانا شروع کر دیا۔ وہی اخبار آپ کی جماعت کے بارے میں لکھے کہ وہ پاکستان کی ایجنٹ ہے اور مسلم مدرسے سے ISI کا اڈا ہیں تو کیا آپ لوگ اس کو بھی اسی طرح شائع کریں گے“۔ آپ نے میری یہ بات نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ہاں، ہم نے اسے پہلے بھی شائع کیا ہے اور آئندہ بھی کریں گے، اس کی تردید کریں گے۔ معاف کیجئے، آپ نے میری بات کو صحیح طور پر نقل نہیں فرمایا۔ میں نے یہ کہا تھا کہ مذکورہ ہندی اخبار میں میرے خلاف ایک بات چھپی تو آپ نے اس کو درست سمجھ کر بلا تردید اس کو خوب پھیلانا شروع کر دیا۔ اسی طرح اس اخبار میں آپ کی جماعت کے خلاف الٹی باتیں چھپتی رہتی ہیں تو کیا ان باتوں کو بھی آپ درست مان لیں گے اور ان کو بلا تردید ہر طرف پھیلانا شروع کر دیں گے۔ مخالفانہ بات کو تردید کے طور پر تو ہر ایک چھپاتا ہے۔ اصل مسئلہ اس کو

‹ Previous page Next page › Contents of June 1999 All issues

Printed page