Al-Risala · June 1999 · page 25

خبر کی تحقیق

الرسالہ، جون ۱۹۹۹، صفحہ ۲۵

تصدیق کے طور پر چھاپنا ہے۔ میرا مطلب یہ تھا کہ اپنے خلاف بات ہو تو آپ اس کو تردید کے طور پر چھاپیں گے۔ اور میرے خلاف بات تھی تو اس کو آپ نے تصدیق کے طور پر پھیلانا شروع کر دیا۔

آپ کی یہ بات سخت مغالطہ انگیز ہے۔ ظاہر ہے کہ میرا مدعا ان باتوں کو تردیدی طور پر شائع کرنے سے نہیں تھا بلکہ تصدیقی طور پر شائع کرنے سے تھا، جیسا کہ آپ حضرات نے میرے ساتھ کیا۔ یعنی جو کچھ ہندی اخبار نے لکھ دیا اس کو مان کر ایک واقعہ کے طور پر اس کو چھاپنا اور دنیا کو یہ بتانا کہ دیکھو ہم ویسے ہی ہیں جیسا کہ ہندی اخبار نے ہمارے بارے میں چھاپا ہے۔ آپ کی یہ سادگی نا قابل فہم حد تک حیرت انگیز ہے کہ آپ نے تردیدی اشاعت اور تصدیقی اشاعت کے فرق کو نہیں سمجھا اور میری طرف مذکورہ قسم کی لغویات منسوب کر دی جس کی لغویت کو سمجھنے کے لئے کامن سنس کا استعمال ہی کافی ہے۔

۶۔ میں نے کہا تھا کہ فوٹو گرافی کے اس زمانہ میں کسی بھی شخص کی تصویر کسی بھی انداز سے چھاپی جاسکتی ہے۔ خود آپ کی جماعت کی شخصیتوں کی تصویریں بھی اسی طرح اخباروں میں چھپ سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ عدالتوں میں تصویر کو شہادت (evidence) کے طور پر قبول نہیں کیا جاتا۔ تصویر کسی بات کو ثابت کرنے کے لئے کوئی معتبر ذریعہ نہیں۔ (تصویری فتنہ کے معاملے کو سمجھنے کے لئے ملاحظہ ہو، سفر نامہ اسپین و فلسطین صفحہ ۲۷۔ الرسالہ، فروری ۱۹۹۹، صفحہ ۳۷-۳۸)۔

اس پر آپ نے لکھا ہے کہ ”ہمیں یہ چیلنج قبول ہے۔ اور اگر ہماری شخصیتوں کے بارے میں ایسی کوئی چیز چھپتی ہے تو ہم اس کو اپنے اخباروں میں چھاپیں گے اور اس کی تردید کریں گے۔ “ یہاں بھی آپ نے میری بات غلط طور پر نقل فرمائی ہے۔ میرے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ آپ نے میرے بارے میں ایک بد نام اخبار میں چھپی ہوئی تصویر کو درست سمجھ کر اس کو بلا تردید اپنے اخباروں میں چھاپنا شروع کر دیا تا کہ مجھ کو بد نام کریں۔ جب کہ یہ اخبارات آپ کی جماعت

‹ Previous page Next page › Contents of June 1999 All issues

Printed page