Al-Risala · June 1999 · page 26

خبر کی تحقیق

الرسالہ، جون ۱۹۹۹، صفحہ ۲۶

کی شخصیتوں کے خلاف ایسی تصویر شائع کریں تو آپ اس کو تردید کے ساتھ چھاپیں گے۔ آپ خود سمجھ سکتے ہیں کہ ایک چیز کو تصدیق کے طور پر چھاپنا اور اس کو تردید کے طور پر چھاپنا دونوں الگ الگ باتیں ہیں۔ دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔

۷۔ قرآن کی زبان میں ایک شی (الجاشیہ ۹) کو لے کر بدنامی کی مہم چلانا ہر ایک کے خلاف ممکن ہے۔ مگر میں نے ہمیشہ اس سے پر ہیز کیا۔ اگر میں چاہتا تو آپ کی جماعت کے لوگوں کی طرح میں بھی یہ کام کر سکتا تھا۔ مثال کے طور پر آپ کی جماعت کے اخبار دعوت (۲۵ جنوری ۱۹۷) میں ایک معروف شخصیت کا انٹرویو بقول اخبار افادۂ عام کی غرض سے ” شائع کیا گیا۔ اس میں ہندوستان اور یہاں کے اکثریتی فرقہ کے بارے میں یہ الفاظ درج تھے ” میں تو پورے یقین و اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر مسلمان نہ ہوتے تو یہ ملک عذاب الہی کا نشانہ بن جاتا اور اسے صفحۂ ہستی سے مٹا دیا گیا ہوتا“ (صفحہ ۲)۔ میرے لئے یہ ممکن تھا کہ میں جماعت کے اخبار میں چھپے ہوئے اس بیان کو لے کر اس کو ہندوؤں میں خوب پھیلاؤں اور ہندوؤں سے کہوں کہ دیکھو تمہارے بارے میں جماعت کے لوگ کیسی بری باتیں چھاپتے ہیں، مگر میں نے ایسا نہیں کیا۔ اسی طرح دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (۲۵ جنوری ۱۹۹۹) میں آپ کی جماعت کے بانی کے صاحبزادہ جناب حیدر فاروق مودودی کا ایک انٹرویو چھپا۔ اس میں انہوں نے یہ انکشاف کیا کہ ان کے والد کا رویہ منشیات کے تاجر (drug peddler) جیسا تھا۔ وہ اپنے بچوں کو اس چیز کے قریب بھی نہیں آنے دیتے تھے جس کی وہ مسلمانوں میں عمومی اشاعت کر رہے تھے۔ (صفحہ ۱۲) میرے لئے یہ ممکن تھا کہ بانی جماعت کے صاحبزادہ کے اس انٹرویو کو لے کر مسلمانوں میں خوب پھیلاؤں اور اس کو جماعت کی بدنامی کے لئے استعمال کروں۔ مگر میں نے ایسا نہیں کیا۔ میں اس قسم کے کام کو نہ صرف غیر اسلامی سمجھتا ہوں بلکہ وہ میرے نزدیک انسانی شرافت کے بھی خلاف ہیں۔

۸۔ آپ نے میرے بارے میں لکھا ہے کہ میں نے ایک گفتگو کے دوران یہ کہا تھا کہ

‹ Previous page Next page › Contents of June 1999 All issues

Printed page