خبر کی تحقیق
الرسالہ، جون ۱۹۹۹، صفحہ ۲۷
”توحید کو ثابت کرنے اور ترک کو باطل قرار دینے پر میں نے بہت کچھ لکھا ہے۔ اتنا مولانا علی میاں نے بھی نہیں لکھا، مولانا مودودی نے بھی نہیں لکھا۔ “ میں عرض کروں گا کہ آپ کا یہ بیان بلاشبہ مغالطہ آمیز ہے۔ اول یہ کہ میں نے یہ بات مطلق طور پر نہیں کہی تھی بلکہ اپنے دفاع میں کہی تھی۔ آپ کی جماعت کے لوگوں نے انتہائی شرمناک جسارت کے طور پر نعوذ باللہ میرے اوپر شرک کا الزام لگایا جس کا میں خواب میں بھی تصور نہیں کر سکتا۔ میں نے اس کے جواب میں ۷ اپریل کی ملاقات میں آپ کو خود آپ کی جماعت کے ماہنامہ زندگی (رمضان ۱۳۷۸ھ) میں چھپا ہوا اپنا ایک مضمون دکھایا تھا جو شرک کے خلاف تھا۔ میں نے کہا تھا کہ مطبوعہ ریکارڈ کے مطابق تقریباً ۴۴ سال سے میں شرک کی تردید اور توحید کے اثبات پر کام کرتا رہا ہوں۔ یہی میرا مشن ہے اور یہی میری حیثیت عرفی ہے۔ پھر آپ کی جماعت کے لوگوں کو کیسے یہ جسارت ہوئی کہ ایسے ایک آدمی کے خلاف ایک جھوٹے شوشہ کو لے کر اتنا بڑا بہتان کھڑا کریں۔
دوسرے یہ کہ میں نے یہ بات مقدار (quantity) کے اعتبار سے نہیں کہی تھی بلکہ اس اعتبار سے کہی تھی کہ موجودہ زمانہ میں ہر نظریہ یا فکر کو سائنٹفک دلائل سے جانچا جاتا ہے۔ اس زمانی رجحان کی بنا پر میں نے طویل محنت کے ذریعہ علوم جدیدہ کا مطالعہ کیا اور پھر جدید دلائل و حقائق کے ذریعہ توحید کو خالص علمی بنیاد پر ایک ثابت شدہ حقیقت بنانے کی کوشش کی۔ اسی طرح شرک و الحاد کو جدید دلائل و حقائق کی روشنی میں خالص علمی طور پر ایک بے اصل اور تباہ کن نظریہ قرار دیا۔ عام طور پر تسلیم کیا جاتا ہے کہ اس موضوع پر عصری اسلوب میں راقم الحروف نے جتنا کام کیا ہے آپ کی جماعت کے کسی بھی عالم یا مفکر نے نہیں کیا۔ ایسی حالت میں آپ کی جماعت کے لوگوں کا میرے اوپر مذکورہ قسم کا بے ہودہ الزام لگانا شریعت اسلامی کے خلاف بھی ہے اور علم و عقل کے خلاف بھی۔
حقیقت یہ ہے کہ اگر آپ کی جماعت کے لوگ قرآن کی اس تعلیم کو اپنے سامنے رکھتے
‹ Previous page Next page › Contents of June 1999 All issues