Al-Risala · June 1999 · page 28

خبر کی تحقیق

الرسالہ، جون ۱۹۹۹، صفحہ ۲۸

کہ: لا یجرمنکم شنان قوم علیٰ الا تعدلوا اعدلوا هو اقرب للتقوى (مائدہ ۸) تو ان کے لئے درست رویہ یہ تھا کہ وہ حضرت ابو ایوب انصاری کے فار مولے پر عمل کرتے۔ قدیم مدینہ میں جب حضرت عائشہ صدیقہ پر ایک مکروہ الزام لگایا گیا تو حضرت ابو ایوب انصاری اپنے گھر آئے۔ ان کی بیوی نے کہا کہ آپ نے سنا کہ عائشہ کے بارے میں کیا باتیں کہی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہاں میں نے سنا، مگر وہ جھوٹ ہے۔ پھر انہوں نے اپنی بیوی سے پوچھا کہ کیا تم ایسا کروگی۔ بیوی نے جواب دیا کہ نہیں۔ اس کے بعد حضرت ابو ایوب انصاری نے کہا: فعائشة والله خير منك (سیرۃ ابن ہشام، ۳/ ۳۲۷)

آپ کی جماعت کے لوگ اگر واقعہ سنجیدہ ہوتے تو وہ یہ کرتے کہ اپنے آپ پر قیاس کرتے ہوئے وہ پہلے ہی مرحلہ میں اس کو رد کر دیتے، کجا کہ وہ اس افک کی اشاعت اور تشہیر میں مددگار بن جائیں۔

۹۔ مجھے اس پر اعتراض نہیں ہے کہ کوئی شخص میرے اوپر علمی تنقید کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ علمی تنقید کسی سماج کا سب سے زیادہ صحت مند عمل ہے مگر بد قسمتی سے آپ کی جماعت کے بانی نے ایک غلط روایت قائم کی۔ وہی روایت آج تک آپ کی جماعت میں چلی جارہی ہے۔ آپ کو معلوم ہوگا کہ ۱۹۶۳- ۱۹۶۲ میں تقریبا دو سال تک آپ کی جماعت کے بانی سے میری خط وکتابت ہوئی۔ میں نے یہ چاہا کہ وہ اپنے سلسلے میں میرے تنقیدی افکار کا علمی جواب دیں۔ مگر میرے اصرار کے باوجود انہوں نے علمی تنقید کے بجائے شخصی تعیب (عیب زنی) کی روش اختیار کی۔ حالانکہ قرآن میں تعیب کو اہل باطل کا شیوہ بتایا گیا ہے (حم السجدہ ۲۶) آپ کی جماعت کے بانی نے کس طرح میری تعیب کی اس کو آپ راقم الحروف کی کتاب تعبیر کی غلطی میں ”ضمیمہ“ کے تحت دیکھ سکتے ہیں۔

بد قسمتی سے آپ کی جماعت اپنے بانی کی اسی روایت پر چل پڑی۔ ان کے لئے موقع تھا کہ وہ میری تنقید کا علمی جواب دیں۔ مگر علمی جواب کا راستہ چھوڑ کر انہوں نے عیب جوئی اور

‹ Previous page Next page › Contents of June 1999 All issues

Printed page