Al-Risala · June 1999 · page 29

خبر کی تحقیق

الرسالہ، جون ۱۹۹۹، صفحہ ۲۹

الزام تراشی کا طریقہ اختیار کیا۔ اس کی تازہ ترین تصویر کا حالیہ فتنہ تھا۔ ۱۔ آپ نے میری ۷ اپریل کی گفتگو کو اپنے خط میں جس طرح نقل کیا ہے، اس طرح تو وہ درست نہیں۔ مگر یہ صحیح ہے کہ میں نے آپ کی جماعت کی موجودہ روش پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے غالباً بعض سخت الفاظ استعمال کئے تھے۔ مگر آپ کو یاد ہو گا کہ میں نے اسی وقت یہ بھی کہا تھا کہ آپ لوگوں نے میرے اوپر ظلم کیا ہے۔ اور قرآن کے مطابق مظلوم کو جہرِ بالسوء کا حق دیا گیا ہے۔ یہ بات قرآن کے چھٹے پارہ کی پہلی آیت میں آئی ہے جس کا ترجمہ یہ ہے : اللہ کو پسند نہیں کسی کی بری بات کا ظاہر کرنا مگر جس پر ظلم ہوا ہو۔ اور اللہ ہے سننے والا اور جاننے والا۔ (ترجمہ شیخ الہند)

یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ علمی تنقید اور بدنامی کی مہم میں نمایاں فرق ہے۔ میں نے آپ کی جماعت کے معلوم افکار پر علمی تنقید کی۔ اس تنقید کو آپ ظلم نہیں کہہ سکتے۔ مگر آپ کی جماعت کے لوگوں نے ایک جھوٹے شوشہ کو لے کر میری بدنامی کی مہم چلائی۔ یہ بلاشبہ میرے دین اور میری عزت پر ناروا حملہ تھا۔ اس لئے اس معاملہ میں آپ لوگ بلاشبہ ظالم ہیں اور میں بلاشبہ مظلوم۔ ایسی حالت میں اگر میں آپ کی جماعت کے لوگوں کے بارے میں کبھی سخت لہجہ اختیار کروں تو قرآن کے مطابق، وہ میرے لئے جائز ہوگا۔ اگرچہ اپنے مزاج کی بنا پر میں عام طور پر ایسا نہیں کرتا۔ میں ہمیشہ یہ کوشش کرتا ہوں کہ اپنی بات کو علمی دلائل کے ذریعہ کہوں۔ اور دوسرے کے نقطہ نظر سے اگر مجھے اختلاف ہے تو اس کو خالص علمی بنیاد پر رد کروں۔ ۱۱۔ آدمی اپنی غلط بات کو صحیح ثابت کرنے کے لئے کس طرح حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرتا ہے، اس کا ایک نمونہ آپ کا یہ خط بھی ہے۔ آپ نے اپنے اس خط میں الرسالہ کی ایک عبارت نقل فرمائی ہے اور اپنے غلط موقف کو درست ثابت کرنے کے لئے اس کو کچھ کا کچھ کر دیا ہے حتی کہ خود رسول اللہ ﷺ کے قول کو غلط شکل میں نقل فرمایا ہے۔ آپ کے خط کی عبارت اور الرسالہ میں چھپے ہوئے مضمون کا متعلقہ حصہ دونوں یہاں آمنے سامنے کالم کے روپ میں

‹ Previous page Next page › Contents of June 1999 All issues

Printed page