خبر کی تحقیق
الرسالہ، جون ۱۹۹۹، صفحہ ۳۰
نقل کئے جارہے ہیں:
آپ کے خط کی عبارت الرسالہ کی مطبوعہ عبارت آپ نے الرسالہ مارچ ۱۹۹۹ کے شمارے روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب یہ قصہ میں لکھا کہ حضرت عائشہ سے حضور نے بہت بڑھا تو رسول اللہ ﷺ از راہ شفقت از راہ شفقت و ہمدردی پوچھا کہ واقعہ کیا حضرت عائشہ کے پاس آئے اور فرمایا کہ اے ہے؟ اگر تم ملوث ہوئی ہو تو اللہ سے توبہ کرو عائشہ تم کو وہ بات پہنچ چکی ہے جو کہ لوگ کہہ ورنہ واقعہ کی تردید کرو۔ نعوذ باللہ من رہے ہیں پس تم اللہ سے ڈرو۔ اگر تم اس ذالک۔ اللہ کے نبی نہ دین کے تقاضوں سے برائی میں پڑی ہو جیسا کہ لوگ کہہ رہے ہیں بے خبر تھے نہ بدنام کرنا مقصود تھا بلکہ خود تو اللہ سے توبہ کرو۔ اللہ اپنے بندوں کی توبہ آپ کے الفاظ میں حضور کا یہ عمل از راہ قبول کرتا ہے۔ اس کے جواب میں حضرت شفقت تھا۔ (صفحہ ۶) عائشہ بے اختیار رونے لگیں۔ (الرسالہ مارچ ۱۹۹۹ صفحہ ۴۸)
ان دونوں عبارتوں کو تقابلی طور پر پڑھئے۔ آپ پائیں گے کہ آپ نے اپنے غلط موقف کو درست ثابت کرنے کے لئے شعوری یا غیر شعوری طور پر، ایک مجرمانہ جسارت کی ہے۔ آپ نے اپنی خود ساختہ بات کو حدیث نبوی میں شامل کر دیا۔ آپ نے خلاف واقعہ طور پر رسول اللہ ﷺ کی طرف یہ قول منسوب کر دیا کہ آپ نے حضرت عائشہ سے یہ فرمایا کہ ”ورنہ تم واقعہ کی تردید کرو۔ “ حالانکہ اصل میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت عائشہ سے صرف یہ فرمایا تھا کہ ”تو تم اللہ سے توبہ کرو۔ “ آپ نے ناقابل فہم جسارت کے ساتھ اپنی طرف سے اس میں یہ الفاظ شامل کر دئے کہ ”تم واقعہ کی تردید کرو۔ “ دوسری بات یہ ہے کہ الرسالہ کے مضمون میں آگے یہ درج تھا کہ: لمبے انتظار کے بعد آخر کار سورہ النور اتری مگر قابل لحاظ بات یہ ہے کہ خود سورہ النور میں بھی براہ راست تردید کا وہ
‹ Previous page Next page › Contents of June 1999 All issues