خبر کی تحقیق
الرسالہ، جون ۱۹۹۹، صفحہ ۳۱
طریقہ اختیار نہیں کیا گیا جس کا مطالبہ الزام لگانے والوں کی طرف سے کیا جا رہا تھا (صفحہ ۴۸) معلوم ہوا کہ حضرت عائشہ صدیقہ سے ”تردید“ کا مطالبہ خدا خواستہ رسول اللہ ﷺ نے نہیں فرمایا تھا بلکہ یہ مطالبہ اگر کیا جا رہا تو ان منافقین کی طرف سے کیا جا رہا تھا جو نعوذ باللہ حضرت عائشہ کو بدنام کرنے کی مہم میں پیش پیش تھے۔ آپ کی یہ جسارت میرے لئے نا قابل فہم ہے کہ الرسالہ مارچ ۱۹۹۹ میں جو بات الزام لگانے والے منافقین کے بارے میں کہی گئی تھی اس کو آپ نے نعوذ باللہ رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کر دیا، صرف اس لئے تاکہ آپ اپنی جماعت کے لوگوں کی کھلی سرکشی کے حق میں ایک جھوٹا جواز فراہم کر سکیں۔ ۱۲۔ آپ نے لکھا ہے کہ جب کوئی شبہ پیدا ہو جائے تو اس کی تردید کرنا ضروری ہے۔ اس سلسلہ میں عرض ہے کہ تردید کا جو مطلوب شرعی طریقہ ہے اس کے مطابق، میں مکمل طور پر اس کی تردید کر چکا ہوں۔ اب معاملہ تردید کا نہیں ہے بلکہ تردید کو قبول کرنے کا ہے۔ اگر مطالبہ کرنے والے کے اندر قبولیت کا مزاج نہ ہو تو تردید کے باوجود وہ اپنے الزام کو دہراتا رہے گا اور یہ دعویٰ کرے گا کہ ابھی تک اس کی تردید نہیں ہوئی۔ مثال کے طور پر آپ نے اپنے خط میں M. N. Roy کی کتاب ہسٹاریکل رول آف اسلام کا ذکر کیا ہے۔ نزولِ قرآن کے زمانہ میں کچھ لوگوں نے یہ کہا کہ قرآن خود محمد کا اپنا کلام ہے۔ قرآن میں اس کی تردید کی گئی اور بتایا گیا کہ یہ خدا کا کلام ہے۔ اس کے باوجود M. N. Roy (اور دوسرے، بہت سے لوگ) بد ستور یہ کہے چلے جا رہے ہیں کہ قرآن محمد کا کلام ہے۔
یہی معاملہ آپ کی جماعت کے لوگوں کا ہے۔ مذکورہ معاملہ میں میں نے قرآن کے اسلوب اور حضرت عائشہ صدیقہ کی سنت کے مطابق مکمل طور پر اس کی تردید کر دی ۔ یہ تردید ان ہزاروں لوگوں کے لئے کافی ہو گئی جن کو مجھے بدنام کرنے سے دلچسپی نہیں تھی۔ مگر آپ کی جماعت کے لوگ جو دلیل کے میدان میں ہار چکے ہیں اور اپنی اس ہاری ہوئی بازی کو الزام تراشی کے میدان میں جیتنا چاہتے ہیں، انھوں نے یہ کہہ دیا کہ یہ تردید ناکافی ہے۔ شاید صرف اس لئے
‹ Previous page Next page › Contents of June 1999 All issues